ایران نے اسرائیل کی اہم 5 فوجی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا، ریڈار ڈیٹا میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
TEHRAN:
ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کا ریڈار ڈیٹا سامنے آگیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے اس جنگ میں اسرائیل کے 5 اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔
خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق برطانوی میڈیا میں سامنے آنے والے ریڈار ڈیٹا میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ تہران سے فائر کیے گئے 6 میزائلوں نے اسرائیل کے شمالی، جنوبی اور وسطی علاقوں میں قائم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ڈیٹا میں دیکھایا گیا ہے کہ اسرائیل کی نشانہ بننے والی تنصیبات میں اہم ایئربیس، ایک انٹیلیجینس سینٹر اور لاجسٹکس بیس شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی حکومت نے ایران کے جوابی حملوں میں ہونے والے نقصانات کی معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور فوجی تنصیبات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات شائع کرنے پر سینسر کردیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے 16 فیصد میزائل ایئرڈیفنس سسٹم کو توڑتے ہوئے اسرائیل پہنچے اور یہ اسرائیل کی فوج کے بتائے ہوئے 87 فیصد کامیابی کی شرح کے مطابق ہے۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی 12 روزہ اسرائیل-ایران جنگ میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 935 ایرانی شہید ہوئے۔
ایران کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ 935 افراد شہید اور 5 ہزار 332 شہری زخمی ہوگئے ہیں۔
اسرائیل کی ہیبرو یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے جواب میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جس میں 29 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور 3 ہزار 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نشانہ بنایا اسرائیل کے اسرائیل کی گیا ہے کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔