سوئٹزرلینڈ نے ایران میں سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
TEHRAN:
سوئٹزرلینڈ نے دو ہفتے بند رکھنے کے بعد ایران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ بھی ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے تاہم ایران-اسرائیل جنگ کے بعد بند کیا گیا تہران میں قائم اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے خارمہ امور کے وفاقی شعبے نے بیان میں کہا کہ سفیر نیڈین اولیویری اور مختصر ٹیم آذربائیجان کے فضائی راستے سے تہران پہنچ گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تہران میں سفارت خانہ اپنی سرگرمیاں بتدریج بحال کرے گا۔
خیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ ایران اور اسرائیل میں جنگ کے دوران ہونے والے فضائی حملوں کے پیش نظر 20 جون کو بند کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سفارت خانہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔