اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے مین سٹریم میڈیا سمیت سماجی رابطوں کے مخلتف پلیٹ فارمز پر پچھلے تین دنوں سے خبریں چل رہی ہیں کہ وفاقی حکومت نے بینک میں دو لاکھ یا اس سے زائد کیش جمع کروانے پر 20 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کیا ہے۔

بعض خبروں میں ٹیکس 40 فیصد سے زائد لکھا گیا ہے اور بعض چینلز کی جانب سے تو عوام کو ہوشیار رہنے کا بھی بتایا گیا ہے یعنی عوام کو بینک میں کیش جمع کروانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر کچھ مراسلے بھی گردش کر رہے ہیں جس میں کچھ کمپنیوں نے اپنے صارفین کو لکھا ہے کہ کیش کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگی کرنی ہے ورنہ کیش میں ادائیگی سے 20 فیصد ٹیکس کاٹ دیا جائے گا۔

یہ خبریں کیسے سامنے آئیں؟

یہ خبریں دراصل مالی سال 2025 – 2026 کے بجٹ اور فنانس بل میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 میں بعض شقوں میں ترمیم کے بعد سامنے آئی ہیں۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 کے شق نمبر 21 میں ترمیم کی گئی ہے جو قابل ٹیکس آمدن یعنی وہ منافع جس پر ٹیکس عائد ہوتا ہے، کے حوالے سے ہے۔

پشاور میں ٹیکس فرم السید ایسوسی ایٹس کے سربراہ اور ٹیکس امور کے ماہر سید انور شاہ ایڈووکیٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی ترامیم کا عام صارف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے حوالے سے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ترامیم کا مقصد کیش ادائیگیوں کا راستہ روکنا ہے اور بینک کے ذریعے ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔

انور شاہ نے بتایا: ’کاروباری شخصیات کو ادائیگیاں چیک یا ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کروانے کا بتایا گیا ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو سالانہ انکم ٹیکس میں اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔‘

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے مختلف مقدمات کی پیروی کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے وکیل رحمان اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس ترمیم کا کسی بینک میں عام بندے کا پیسے جمع کرنے کے ساتھ تعلق نہیں اور نہ اس پر کوئی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

تاہم انکم ٹیکس آرڈیننس کی جس شق میں ترمیم کی گئی ہے، تو اس کا تعلق صرف کاروباری منافع کے ساتھ ہے اور سال کے آخر میں کمپنیوں کی جانب سے انکم ٹیکس جمع کرنے کے ساتھ ہے۔

رحمان اللہ نے بتایا: ’انکم ٹیکس کے شق نمبر 20 اور 21 بزنس سے متعلق منافع اور اخراجات کو انکم ٹیکش گوشواروں میں ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے ہے اور عام بینک ڈیپازٹ کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔’

انکم ٹیکس ترمیم میں کیا بتایا گیا ہے؟

دو لاکھ سے زائد کیش جمع کرانے پر ٹیکس کی خبروں میں صداقت جاننے سے پہلے، معلوم کرتے ہیں کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں حالیہ ترامیم کیا کی گئی ہیں۔

فنانس بل 2026 کے مطابق انکم ٹیکس کے شق نمبر 21 کے ذیلی شو q اور p میں ترمیم اور اضافہ کیا گیا ہے اور یہ شق کسی کاروبار کے منافع حاصل کرنے اور اس پر ٹیکس کے حوالے سے ہے۔

ترمیم میں یہ لکھا گیا ہے کہ اگر کسی کمپنی نے کوئی چیز خریدی اور اس کی ادائیگی ایک ایسے شخص کو کردی جو نان فائلر ہے، تو اس ادائیگی کی 10 فیصد ٹیکس ریٹرن میں بطور اخراجات شمار نہیں کی جائے گی۔

اسی طرح انکم ٹیکس کے شق نمبر 21 میں ایک ترمیم یہ کی گئی ہے کہ اگر آپ نے کسی سپلائر سے کوئی پراڈکٹ خریدی اور دو لاکھ سے زائد ادائیگی کیش میں کی تو ان اخراجات کا صرف 50 فیصد انکم ٹیکس ریٹرن میں بطور اخراجات قبول ہو گا جبکہ باقی پر ٹیکس عائد ہو گا۔

مگر سوشل میڈیا سمیت مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اس ترمیم کو ایسے رپورٹ کیا ہے کہ جیسے کوئی بھی شخص بینک میں دو لاکھ سے زائد رقم ادا کرے گا، تو اس پر ٹیکس عائد ہو گا لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔

اس ترمیم کو قارئین کی سمجھنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے مثالوں کے ذریعے واضح کرنے کی کوشش کی ہے جس میں دونوں ترامیم کو ایک ایک کر کے مثالوں سے وضاحت پیش کی جاتی ہے۔

پہلا ترمیم جو نام این ٹی این ہولڈر کو ادائیگی کے حوالے سے ہے، جس میں ادائیگی کی 10 فیصد اخراجات میں شمار نہ کیے جانے کا ذکر ہے۔

سب سے پہلے کسی بھی کاروبار میں انکم ٹیکس ادا کرنے کا فارمولہ جانتے ہیں جو کسی بھی کمپنی کو سال کے آخر میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کے دوران ادا کرنی پڑتی ہے۔

مثال کے طور پر کسی کمپنی نے سال کے اوائل میں ایک کروڑ روپے کا مال خریدا اور مالی سال کے آخر تک 50 لاکھ روپے کا مال بیچ دیا۔

اس 50 لاکھ روپے میں کمپنی نے سال میں ملازمین کے تنخواہوں، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر اخراجات پر 30 لاکھ خرچ کیے تو باقی 20 لاکھ کمپنی کا منافع ہو گیا جس پر کمپنی کو انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

اب آتے ہے ترامیم کو مثالوں کے ذریعے واضح کرنے کی جانب

مثال کے طور پر آپ کا پشاور میں پلاسٹک چپل کا کارخانہ ہے جس کے لیے آپ ماہانہ پانچ لاکھ روپے کا خام مال لاہور کے کسی سپلائر سے خریدتے ہیں، جس کا سالانہ خرچہ 60 لاکھ روپے بنتے ہیں اور اس سے ہر سال آپ 10 لاکھ روپے کماتے ہیں۔

اب اگر آپ کا سپلائر نان فائلر ہے تو آپ نے جو 60 لاکھ روپے ادا کیے ہیں، صرف 54 لاکھ کے آپ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کے وقت اخراجات میں شمار کر سکتے ہیں اور باقی آپ کے منافع میں حساب کیا جائے گا جس پر آپ کو ٹیکس دینا پڑے گا۔

اس کو ذرا مزید آسان بناتے ہیں۔

آپ نے سپلائر سے خام مال خریداری کے 60 لاکھ روپے دیے، یعنی یہ اخراجات ہیں جن پر انکم ٹیکس عائد نہیں ہے لیکن نان فائلر سے خریداری کی وجہ سے اس ادائیگی میں چھ لاکھ روپے آپ کے منافع میں شمار کیے جائیں گے۔

اس مثال میں اگر آپ کو 60 لاکھ روپے اخراجات پر 10 لاکھ روپے منافعے پر، اگر ایک لاکھ روپے ٹیکس دینے پڑتا تو اب یہ ٹیکس 16 لاکھ روپے پر ادا کرنا ہوگا کیونکہ نان این ٹی این ہولڈرز کو ادائیگی کی وجہ سے 10 فیصد اخراجات کی مد سے نکال کر آپ کے منافعے میں شامل کیا جائے گا۔

تاہم اس ترمیم میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کسان سے کچھ خریدتا ہے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہو گا، یعنی اگر اگر کسان نان این ٹی این ہولڈر بھی ہوں تو پوری ادائیگی اخراجات میں شمار ہو گی۔

تاکم اگر زرعی مصنوعات کسی مڈل مین یعنی ڈائریکٹ کسان سے نہیں بلکہ درمیان کے کسی شخص سے خریدی گئیں، تو اس پر قانون کا اطلاق ہو گا۔

دوسری ترمیم اور مثال

اب دوسری ترمیم کی طرف آتے ہیں جس پر سوشل میڈیا پر بھی بہت بحث ہورہی ہے کہ دو لاکھ روپے سے زائد کیش جمع کرنے پر ٹیکس عائد ہو گا، جو ایسا نہیں ہے اور اس ترمیم کا تعلق کسی عام شخص یا کسی تنخودار طبقے سے بھی نہیں ہے۔

مثال کے طور پر گندم کے کاروبار سے وابستہ کسی شخص نے سپلائر سے 20 آٹے کی بوریاں خریدیں اور دو لاکھ روپے یا اس سے زائد ادائیگی ایک ہی بل پر سپلائر کو کیش میں کی۔

اب اس صورت حال میں کیش ادائیگی کی وجہ سے دو لاکھ روپے میں 50 فیصد یعنی ایک لاکھ روپے اخراجات میں شمار کیے جائیں گے جبکہ باقی ایک لاکھ روپے انکم ٹیمس گوشوارے جمع کرنے کے دوران منافع میں جمع ہوگا جس پر آپ کو ٹیکس دینا پڑے گا۔

مزید اس کو آسان بناتے ہے کہ اگر ایک سال میں کسی شخص نے 12 لاکھ روپے کی آٹے کی بوریاں خریدی ہیں اور اس سے ایک سال میں چھ لاکھ روپے کمائے ہیں۔

اب انکم ٹیکس سلیب کے مطابق چھ لاکھ روپے تک منافع انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، لیکن اگر 12 لاکھ روپے کی ادائیگی نقد کی ہے تو منافعے کے چھ لاکھ روپے کے ساتھ مزید چھ لاکھ روپے (بجائے اس کے کہ یہ اخراجات تھے) جمع ہوں گے اور اس پر آپ کو ٹیکس دینا پڑے گا۔

اب اس ترمیم کا مقصد ڈیجیٹل اور بینک تک ذریعے ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور اگر ان تمام صورتوں میں ادائیگی ڈیجیٹل یا بینکنگ کے ذریعے ہوں، تو تمام ادائیگیاں اخراجات میں ہی شمار ہوں گی اور اس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا۔

اسی طرح اگر کوئی کمپنی کسی ایسی شخص سے مال خریدتا ہے جو فائلر ہوں، تو وہ ادائیگی بھی اخراجات میں شمار ہوگی اور اس پر کوئی اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ا رڈیننس اخراجات میں شمار پر ٹیکس عائد ہو کے حوالے سے ہے دو لاکھ روپے جمع کرنے کے لاکھ روپے ا ادائیگی کی کی جانب سے کے شق نمبر سپلائر سے اور اس پر کی گئی ہے ہے کہ اگر کے منافع کے ذریعے سال کے ا ٹیکس کے کیش جمع کے ساتھ ہیں اور نہیں ہے میں کی گیا ہے پڑے گا ہے اور

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا