پاک بھارت فوجی سیز فائر بھارتی سیاسی قیادت کو ہٖضم نہیں ہورہا ‘ اسحق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالا لمپور( خبر ایجنسیاں)پاکستان کے نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے عجیب حرکت کی، بھارت نہ پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ رخ موڑسکتا ہے‘بھارت اور پاکستانی فوج کے درمیان سیز فائر ٹھیک چل رہا ہے جو بھارتی سیاسی قیادت کو ہضم نہیں ہورہا۔ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشکل معاشی حالات میں ٹیک آف کیا اور اب پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہمارا ہدف ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے عجیب حرکت کی، بھارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر ہم نے بھرپورجواب دیا اور سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر ہم نے جواباً بھارتی ائرلائنزکے لیے حدود بندکی، بھارت اب دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں بھارت کو بھرپورجواب دینے کا فیصلہ ہوا، فضائیہ کے بہادرپائلٹس نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے جن میں سے 4 رافیل طیارے تھے، بھارت نے جان بوجھ کر اپنے 2 میزائل سکھ آبادی میں گرائے تاہم بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ صبح سوا 8 بجے امریکی وزیرخارجہ نے فون پرکہا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے، جنگ شروع بھی بھارت نے کی تھی اور ختم بھی ان ہی کی درخواست پرہوئی، پاک بھارت ملٹری ٹو ملٹری سیز فائر ٹھیک چل رہا ہے مگر بھارت کی سیاسی قیادت سے ہضم نہیں ہورہا، دونوں ملکوں کی فوجیں بھی پوزیشن بدل چکی ہیں، ہمارا میزائل پروگرام پاکستان کی ڈھال ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کابل جا کر چائے پینے اور دہشت گردوں کے لیے سرحد کھولنے سے نقصان ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔