Express News:
2026-06-03@02:19:33 GMT

اسرائیلی یونٹ بیاسی سو کیا بلا ہے(حصہ اول)

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

سب سے اچھی درس گاہ وہ دشمن ہے جو بھاری پڑ رہا ہو۔ایسے دشمن سے نپٹنے کے لیے اس کی نفسیات ، کامیابیوں اور ناکامیوں کے اسباب ، کمزور اور طاقتور پہلو جاننا لازمی ہے۔بصورتِ دیگر وہ آپ کو ہر سمت سے مارتا رہے گا اور آپ اندھیارے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہ جائیں گے۔

دشمن کی بربریت کی مذمت ، احتجاجی جلسے جلوس ، سفارتی ، سیاسی ، اقتصادی بائیکاٹ ضرور کیجیے اور حقہ پانی بند کرنے کی آرزو بھی زندہ رکھئے۔ مگر محض علامتی اقدامات سے آپ کسی فطین دشمن پر غلبہ پا سکتے ہیں یا اس کے ہوش ٹھکانے لا سکتے ہیں ؟

 ہم میں سے کتنوں نے خود سے کبھی یہ پوچھا ہو کہ عربوں اور دیگر مسلمانوں کے بارے میں اسرائیل جتنا جانتا ہے کیا ہم بھی اسرائیل کے بارے میں اتنے ہی جان کار ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر اپنی آگہی بڑھانے کے لیے منہ سے جھاگ نکالنے ، ہوا میں مکے چلانے اور ایک بین الاقوامی در سے دوسری بین الاقوامی چوکھٹ کا طواف کرنے کے سوا عملاً اور شعوراً کیا کر رہے ہیں؟

اس تناظر میں اسرائیلی فوج کے سب سے بڑے یونٹ میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کا سب سے کم تذکرہ ہوتا ہے۔اگر موساد اسرائیل کی پہلی دفاعی لائن ہے تو ’’ یونٹ بیاسی سو ‘‘ جارحانہ دفاع کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس یونٹ کا عبرانی نام ’’ یہیدا شمونے متائم ( یونٹ ایٹ ٹو ہنڈرڈ ) ‘‘ ہے۔اسے آپ فوج کی انٹیلی جینس کور بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس کی بنیادی ذمے داریوں میں خفیہ آپریشنز ، کوڈ بریکنگ ، سگنل انٹیلی جینس ، کاؤنٹر انٹیلی جینس ، بیرونی ذرائع ابلاغ و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے رجحانات و مواد پر نظر رکھنا اور اس کا تجزیہ کر کے ممکنہ دشمنوں اور دوستوں کی سوچ اور سرگرمیوں سے آگاہ رہنا ہے۔ یونٹ بیاسی سو سائبر جنگ کا ہراول دستہ ہے اور سائبر جنگی آلات کی تیاری ، استعمال اور فوج کی تمام شاخوں کی بھرپور اور مربوط سائبر مدد بھی یونٹ بیاسی سو کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے۔

یہ یونٹ انیس سو باون میں قائم ہوا اور مرکزی فوجی انٹیلی جینس ادارے امان کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کی افرادی قوت آٹھ تا دس ہزار کے درمیان رہتی ہے۔ لازمی فوجی سروس قانون کے تحت دیگر فوجی یونٹوں میں عام شہریوں کی بھرتی کے برعکس یونٹ بیاسی سو کی افرادی قوت ہر تین برس بعد بدل جاتی ہے۔یعنی اس کی رگوں میں ہمہ وقت تازہ خون دوڑتا ہے۔

 اس یونٹ میں اٹھارہ سے بیس برس کے ان لڑکے لڑکیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے جو کمپیوٹر سائنس یا ملحقہ شعبوں میں اپنا کیرئیر دیکھتے ہوں اور اسکول کی سطح پر ہی انھوں نے کوڈنگ اور ہیکنگ کے ہنر میں بالخصوص قابلیت و صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہو۔ ریکروٹمنٹ ٹیمیں اسکول کے سینیر طلبا و طالبات سے رابطہ کرتی ہیں اور ان میں سے قابل دماغوں کو محدود مدت کے لیے ملازمت کی پیش کش کرتی ہیں۔

تین برس یونٹ بیاسی سو میں گذارنے کے بعد یہ نوجوان اتنا تجربہ حاصل کر لیتے ہیں کہ ان میں سے اکثر کو بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیاں اور امریکا کی سلیکون ویلی یا مغربی دفاعی ادارے پرکشش شرائط پر ہاتھوں ہاتھ لے لیتے ہیں۔ اکثر نوجوان اسرائیلی اور امریکی کمپنیوں کی ابتدائی مالی اعانت سے اپنا کوئی اسٹارٹ اپ بھی شروع کر لیتے ہیں اور پھر اپنے مددگاروں کو نت نئے آئیڈیاز ، مہارت اور مصنوعات فراہم کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

یونٹ بیاسی سو کی کمان ایک میجرجنرل کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔اس کے کئی مددگار ڈپٹی کمانڈرز ہیں۔یہ ڈپٹی اپنے اپنے ذیلی یونٹس کی کارکردگی کے ذمے دار ہیں۔ان میں سے ایک ذیلی یونٹ ڈیٹا سائنس اور اے آئی سے متعلق امور پر تحقیق و انطباق کے لیے مختص ہے۔

اگلے مضمون میں بھی یہی ذیلی یونٹ ہماری علمی دلچسپی کا مرکز رہے گا۔کیونکہ غزہ ، مقبوضہ غربِ اردن ، لبنان ، شام اور دیگر علاقائی ممالک کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اس وقت اے آئی ( آرٹیفشل انٹیلی جینس )  کو بطور ہتھیار جس چابک دستی سے استعمال کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں جاننا ازبس ضروری ہے۔

یونٹ بیاسی سو کی تکنیکی و پیشہ ورانہ مہارت امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی ( این ایس اے ) کے ہم پلہ تصور کی جاتی ہے اور دونوں اداروں اور اسی طرح کے دیگر مغربی ریاستی اداروں کے مابین باہمی تعاون کی ایک مضبوط زنجیر قائم ہے۔

یونٹ بیاسی سو کا سب سے بڑا سگنلنگ مرکز جنوبی اسرائیل کے صحرِا نجف میں قائم ہے۔اس کا شمار برقی سراغرسانی کی پانچ بڑی عالمی تنصیبات میں ہوتا ہے۔اس مرکز سے آس پاس کی بحری گذرگاہوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی جاتی ہے (یعنی کون کہاں کیا کتنی اشیا لے جا رہا ہے )۔

صحراِ نجف کے اس مرکز میں مشرقِ وسطی ، مغربی ایشیا ، شمالی افریقہ اور یورپ سے جنریٹ ہونے والی فون کالز ، ای میلز ، سوشل میڈیا ڈیٹا اور زیرِ آب انٹرنیٹ لائنوں کی ٹریفک سے لپکا جانے والا مواد ہمہ وقت چھلنی سے گذرتا رہتا ہے۔اسرائیلی سفارت خانے بھی اس یونٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔یونٹ بیاسی سو کو متعلقہ امریکی اداروں کے توسط سے امریکی شہریوں کے ڈیٹا تک بھی حسبِ ضرورت رسائی حاصل ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں یونٹ بیاسی سو کے انسانی و الیکٹرونک جاسوسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔اس یونٹ کے زیرِ استعمال طیارے الیکٹرونک نگرانی کے نظام سے لیس ہیں۔

اگلے مضمون میں ہم یونٹ بیاسی سو کی اہم اندرونی و بیرونی کارروائیوں ، بین الاقوامی سافٹ وئیر کمپنیوں سے قریبی تعاون ، اے آئی سے لیس ہتھیاروں اور فوجی آلات کی تیاری ، ان کے اندھا دھند استعمال کی بابت بین الاقوامی قوانین و نظائر اور تنقید پر مفصل بات کرنے کی کوشش کریں گے۔   (جاری ہے)

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یونٹ بیاسی سو کی بین الاقوامی انٹیلی جینس اس یونٹ کے لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان