مسلح افواج کو پہلگام حملے کے جواب میں ہدف اور وقت کے تعین کی مکمل آزادی ہے، مودی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے ردعمل میں طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل آزادی‘ ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پہلگام میں حملے کے بعد مسلح افواج کو ’کھلی آپریشنل آزادی‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج انڈیا کے ردعمل کے لیے طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کریں گی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق انھوں نے یہ بیان ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر دیا جس میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال سمیت تینوں سروسز کے سربراہان موجود تھے۔
نریندرمودی نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے قوم متحد ہے اور انھیں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ قابلیت پر مکمل اعتماد ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے پہلگام حملے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا وہ ’پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو زمین کے آخری کونے تک تلاش کریں گے اور انھیں ایسی سزائیں دی جائی گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘
سکیورٹی کی اس اعلی اختیاراتی میٹنگ کے بعد آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی وزیر اعطم سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔
پہلگام حملے کے بعد پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انڈیا نے ابتدائی قدم کے طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے اور پاکستان سے اپنا سفارتی عملہ محدود کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ انڈیا نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا بند کر دیا گیا اور انڈیا میں موجود پاکستانی شہریوں سے ملک سے چلے جانے کے لیے گہا تھا جس کی آخری تاریخ آج تھی۔
پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے کچھ اسی طرح کے اقدامات کیے تھے اور اعلان کیا تھا کہ وہ شملہ معاہدے سے نکل رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پہلگام حملے کے مسلح افواج کے بعد کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔