استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور پرنٹرز کی قیمتوں میں کتنی کمی ہونے جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی کی جانب سے استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور پرنٹرز سمیت دیگر اشیا پر کسٹم ڈیوٹی کم کردی گئی ہے جس سے توقع ہے کہ مارکیٹ میں ان درآمد شدہ اشیا کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کمپیوٹر چپ کی تیاری: چین 2025 میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کی جانب سے کچھ عرصے کے بعد ویلیوایشن فہرست جاری کی جاتی ہے اور جو ڈالر کی قیمت سمیت عالمی مارکیٹ اور قومی پالیسی کو دیکھ کر مرتب کی جاتی ہے آخری بار ویلیوشن فہرست ایک سال پہلے مرتب کی گئی تھی۔
ایئریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کے مطابق استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور پرنٹرز سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آئے گی۔
لیپ ٹاپس کی بات کی جائے تو ان کی قیمت 10 ہزار روپے سے شروع ہو کر کم و بیش 60 ہزار روپے تک بنے گی جبکہ بات کی جائے ڈیسک ٹاپ کی تو سینٹرل پراسیسنگ یونٹ کی قیمت 4 ہزار روپے سے شروع ہوکر 21 ہزار روپے تک ہو گی۔
مزید پڑھیے: بیرون ملک سے موبائل لانے پر ٹیکس میں کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے خوشخبری سنادی
جہاں تک مانیٹرز کا تعلق ہے تو سب سے چھوٹا مانیٹر (14 انچ) ہے جس کی قیمت 1.
کراچی کی مشہور یونی پلازہ میں موجود کمپیوٹرز کے کاروبار سے منسلک تاجر وحید مسیڈیا کے مطابق کمپیوٹرز سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں کا تعلق ان کے نئے ماڈلز آنے سے بھی ہوتا ہے جیسے کہ کوئی نیا ماڈل مارکیٹ میں آرا ہے تو پرانے کی قیمت میں کمی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موبائل فونز کے معاملے میں بھی ایسا ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت نئی ویلیو ایشن کے مطابق 10 سے 20 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: حکومت کا قسطوں پر موبائل فون فراہم کرنے کا منصوبہ تعطل کا شکار
ان کا کہنا تھا کہ نئی اشیا کی قیمتیں ویسے بھی زیادہ ہوتی ہیں اور وہ قوت خرید نہ ہونے کے باعث پاکستانی زیادہ تر استعمال شدہ اشیا کو فوقیت دیتے ہیں اور ان کا پاکستان میں آنے کا ذریعہ ہوائی اور بری جہاز ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہوائی جہاز پر آنے سے اس کا ٹیکس زیادہ ہوتا ہے جبکہ سمندر سے آنے والے سامان کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر ٹیکس کی ادائیگی کم ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استعمال شدہ موبائل اور کمپیوٹرز پرانے کمپیوٹرز پرانے کمپیوٹرز کی قیمتوں میں کمی پرانے موبائل پر ڈیوٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ موبائل اور کمپیوٹرز پرانے کمپیوٹرز پرانے کمپیوٹرز کی قیمتوں میں کمی پرانے موبائل پر ڈیوٹی کی قیمتوں میں استعمال شدہ ہزار روپے لیپ ٹاپس اشیا کی کی قیمت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔