پاک بھارت کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
تجزیہ کاروں نے بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ آئندہ چند روز میں ممکنہ حملے کی خبریں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی پڑنے لگے، کاروبار کے دوران انڈیکس میں 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز ہوا، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 11 ہزار 192 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس 808 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 14 ہزار 872 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں نے بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی کو مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ آئندہ چند روز میں ممکنہ حملے کی خبریں ہیں۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف نے کہا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کے خلاف ممکنہ بھارتی فوجی کارروائی سے پریشان ہیں، وزیر اطلاعات کی پریس بریفنگ کے بعد خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی کرنسی 12 پیسے سستا ہوگئی، ڈالر 281.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے زائد پوائنٹس پوائنٹس کی کی وجہ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔