تجزیہ کاروں نے بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ آئندہ چند روز میں ممکنہ حملے کی خبریں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی پڑنے لگے، کاروبار کے دوران انڈیکس میں 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز ہوا، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 11 ہزار 192 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس 808 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 14 ہزار 872 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں نے بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی کو مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ آئندہ چند روز میں ممکنہ حملے کی خبریں ہیں۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف نے کہا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کے خلاف ممکنہ بھارتی فوجی کارروائی سے پریشان ہیں، وزیر اطلاعات کی پریس بریفنگ کے بعد خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی کرنسی 12 پیسے سستا ہوگئی، ڈالر 281.

02 روپے سے کم ہو کر 280.90 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سے زائد پوائنٹس پوائنٹس کی کی وجہ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن