UrduPoint:
2026-06-03@03:01:38 GMT
آل پارٹیز کانفرنس بلائیں ، عمران خان کو بھی اس میں مدعو کریں
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2025ء) حافظ حمد اللہ نے عمران خان کو آل پارٹیز کانفرنس میں بلانے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے حوالے سے سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ رہنما جے یو آئی نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں ، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت بھی شامل ہو اور عمران خان کو بھی اس میں مدعو کریں، 9 مئی، توشہ خانہ اور القادر کیس کو ایک سائیڈ پر رکھ کر ملک کا سوچیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے ایک انسان کو نا حق قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، پہلگام حملے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں - مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوج کھڑی کر کے ہندوستان کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہے - ہندوستان پاکستان پر پہلگام حملے کا الزام لگانے سے قبل 7 لاکھ فوج سے پوچھے کہ تنخواہ چوکیداری کی لیتے ہو غفلت کیوں کی؟ قاتل انڈین فوج ہے - ہندوستان پانی بند کر کے جنگ چھیڑنا چاہتا ہے ہم پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے تو سن لو ہندوستان ہم مسلمان ہیں ہمیں حکم ہے اگر جنگ مسلط ہو تو باطل کی گردن اڑا دو ہم اپنی تعلیمات پر چلیں گی- ہمارے آپس میں اختلافات ضرور ہیں مگر ہندوستان نے اگر کوئی غلطی کی تو ہم سب ملکر جنگ لڑیں گے اور لڑائی پھر دہلی میں جا کر لڑیں گے اور جنگ بھی ایسے لڑیں گے کے دہلی فتح کر کے نماز جامع مسجد میں ادا کریں گے۔(جاری ہے)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔