خیبر پختونخوا: ناخوشگوار واقعہ کی بروقت اطلاع کیلئے 50 سائرن سسٹم نصب
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) پہلگام واقع کے بعد ہندوستان کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت نے بھی اقدامات شروع کر دیئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی بروقت اطلاع کے لیے 50 سائرن سسٹم نصب کردیئے گئے، سائرن سسٹم صوبے بھر کے مختلف اضلاع میں نصب کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایبٹ آباد ،ڈی آئی خان اور پشاور سمیت 7 اضلاع میں 4،4 سائرن لگا دیئے گئے جبکہ صوبے کے باقی تمام اضلاع میں ایک ایک سائرن نصب کیا گیا۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تناؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے عوام کو بروقت آگاہ رکھنے اور کسی بھی فضائی حملے کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے سائرن سسٹم بحال رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بھارتی فوجی وردی میں بھیڑیے، اسرائیلی خاتون افسر کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بناڈالا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔