بھارت کے  جنگی جنون اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کشیدہ صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا حکومت نے 29 اضلاع میں جدید سائرن نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو جلد سائرن نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

خیبرپختونخوا ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے اس حوالے سے تمام کنٹرولر سول ڈیفنس، ڈپٹی کمشنرز کو  باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا۔ مراسلہ پشاور، مردان، چترال سمیت صوبے کے 29 اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ز کو ارسال کیا گیا جس کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 50 جدید سائرن نصب کیے جائیں گے۔

مراسلے میں لکھا ہے کہ سائرن نصب کرنے کا مقصد شہری علاقوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم مقامات کو بروقت وارننگ دینا اور جنگی خطرے یا فضائی حملے کے پیشگی انتباہ کے طور عوام کو الرٹ کرنا ہے تاکہ لوگ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کر سکیں۔

مراسلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ نصب شدہ سائرنز  کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے مثلاً کس مقام پر نصب ہیں،کس کی نگرانی میں ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی فعالیت ڈائریکٹوریٹ کو فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ تمام سول ڈیفنس آفیسر سائرنز کو چیک کریں اور ان کی سروس کروائیں۔ اور تمام سائرنز کی فعالیت اور درست حالت کو یقینی بنائیں۔ حکومت کے مطابق بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور لائن اف کنٹرول پر حالات کشیدہ ہیں جبکہ حکومت نے تمام تر انتظامات کیے ہیں۔ اور بھارتی جنگی جنوں کا جواب دینے کے لیے حکومت تیار ہے۔ جبکہ پاکستانی عوام بھی پاک آرمی کے ساتھ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش