اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت اسلام آباد نے رینٹل پاور ریفرنس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب اصل ملزمان کیخلاف نیب کیس واپس لے چکی تو دیگر ملزمان بھی بری ہونے کے حقدار ہیں۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق رینٹل پاور کیس کا تحریری فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے جاری کیا، فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے 30 مارچ 2012ء کو رینٹل پاور پلانٹس کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نقصانات مارک اپ کے ساتھ ریکور کرنے کا حکم دیا تھا، اسی کی روشنی میں نیب نے انکوائری کا آغاز کیا۔

پاک فوج نے بھارت کی کیانی اور منڈل سکیٹر میں بلااشتعال فائرنگ کا جواب کیسے دیا ۔۔۔؟ ویڈیو دیکھیں

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کارکے کمپنی سمیت متعدد منصوبوں کی انکوائری کے بعد ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر 31 ملزمان کیخلاف ریفرنس فائل کیا گی جبکہ غیر قانونی کنٹریکٹ دینے پر 12 ملزمان کیخلاف سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق نیب قوانین میں ترمیم کے بعد ریفرنس دائرہ اختیار سے باہر ہونے کے باعث واپس کیا گیا تاہم سپریم کورٹ کے 5 ستمبر 2023ء کے فیصلے میں نیب ترامیم کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیا گیا، اس کے بعد ریفرنس دوبارہ عدالت میں آگیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے ریکارڈ کی بنیاد پر قرار دیا کہ جن 11 ملزمان کیخلاف نیب کیس واپس لے چکی ہے، موجودہ ریفرنس کے دیگر ملزمان کا کردار بھی انہی کے برابر ہے، اس لیے انہیں بھی بری کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی حدود کی بندش سے بھارتی پروازوں کیلئے مشکلات، ویانا کو ٹرانزٹ سٹیشن بنالیا

حتساب عدالت نے راجہ پرویز اشرف، محمد اسماعیل قریشی، فضل احمد خان،  این اے زبیری اور طاہر بشارت چیمہ کر بری کردیا، بری ہونے والوں میں محمد سلیم عارف، محمد رضی عباس، اقبال علی شاہ، وزیر علی بھئیو، حفیظ الرحمان عباسی اور رسول خان محمود بھی شامل ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ملزمان کیخلاف ملزمان کی کے مطابق

پڑھیں:

بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔

عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت