سرمایہ کاروں کے منافع کو اربوں روپوں کے خسارے کا سامنا، کیا اسٹاک مارکیٹ سنبھل پائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
نت نئے ریکارڈ بنانے والی پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے 30 اپریل ڈراؤنا خواب ثابت ہوا کیوں اسٹاک مارکیٹ مندی سے شدید مندی اور پھر ریکارڈ مندی کا شکار ہوئی۔ کہا جا رہا ہے کہ جب تک پاک بھارت کشیدگی برقرار رہے گی تو یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ہو یا سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگائیں گے بلکہ اس ماحول میں سرمایہ کار اپنا پیسہ نکالنے کو ترجیح دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ شدید مندی کاشکار
سینیئر صحافی تنویر ملک کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ ہو یا معیشت وہ ایسے ماحول میں متاثر ہوتے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ ایسے جنگی معاملات کے سلسلے میں حساس ہوتی ہے اور اس کا ردعمل فوری طور پر سامنے آجاتا ہے، شئیرز کے اتار چڑھاؤ میں تیزی سے تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔
تنویر ملک کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں ایک افسوسناک واقعہ ہوا جس کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے سخت قسم کے بیانات دیے جس کے ردعمل میں پاکستان کی جانب سے بھی سخت جواب دیا گیا اور ایک جنگی کیفیت نے جنم لے لیا ہے اس کا اثر سب سے پہلے اسٹاک مارکیٹ پر آیا اور جب سے پہلگام واقعہ ہوا اس دن سے اب تک پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اچھی خاصی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
تنویر ملک کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو اسٹاک مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہے گا یہ کہنا تو مشکل ہوتا کہ کتنی کمی متوقع ہے لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں ہے اور اب جب امریکا بھی اس میں بیان دے چکا ہے تو یہ بین الاقوامی ایک مسلئہ بن چکا ہے کیوں کہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔
تنویر ملک نے مزید کہا کہ جس طرح پاکستان اسٹاک مارکیٹ بڑھی تھی اس میں ویسے بھی سرمایہ کاروں کو منافع نکالنا تھا اور دوسرا یہ ہوا کہ کیفیت ایسی بنی کہ سرمایہ کار سرمایہ تیزی سے نکالنے لگ گئے ہیں کیوں کہ سرمایہ کار یہ سوچ رہے ہیں کہ اس سے پہلے کہ بہت بڑی کمی آئے سرمایہ نکال لو تو جب تک پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ صورت حال ختم نہیں ہو جاتی یا حالات معمول پر نہیں آجاتے جس کا امکان نظر نہیں آرہا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی لگ رہا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ مزید نیچے جائے گی ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ گرنے کے بعد سرمایہ کار تھوڑا بہت سرمایہ لگا لیں لیکن اس جنگی کیفیت میں بہتری کی امید نہیں لگائی جا سکتی۔
مزید پڑھیے: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا مثبت آغاز، 100انڈیکس میں 1100 پوائنٹس کا اضافہ
سینیئر صحافی حمزہ گیلانی نے وی نیوز کو بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج 4 نفسیاتی حدیں ایک لاکھ 13 ہزار، ایک لاکھ 14 ہزار، ایک لاکھ 11 ہزار اور ایک لاکھ 10 ہزار کھو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی سے اسٹاک مارکیٹ مسلسل منفی جا رہی ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کشیدگی میں اسٹاک مارکیٹ مندی سے بدترین مندی اور بدترین مندی سے ریکارڈ مندی کا شکار ہوئی ہے۔
حمزہ گیلانی مزید بتاتے ہیں کہ جب مارکیٹ 5 فیصد جمع ہوتی ہے یا 5 فیصد منفی ہوتی ہے تو مارکیٹ کو ایک گھنٹہ، 45 منٹ یا آدھے گھنٹے کے لیے سیز کر دیتے ہیں جیسا کہ ہم نے امریکا کی جانب سے ٹیرف لگانے کے بعد کی صورت حال دیکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جنگی صورت حال اور اسی صورت حال میں مارکیٹ نیچے ہی جائے گی چاہے آپ کچھ بھی کر لیں اسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
حمزہ گیلانی نے مثال دی کہ اگر کسی نے ایک کروڑ روپے کے شئیرز خریدے ہیں اور وہ اسے اس لیے بیچنا چاہ رہا ہے کہ کہیں اس کشیدہ صورت حال میں نقصان نہ ہو جائے تو یہ فرد واحد کا فیصلہ ہے اس کے ساتھ کوئی کچھ نہیں کرسکتا تو یہ سرمایہ کار کا فیصلہ ہے کہ وہ حالات کو دیکھ کر سرمایہ لگائے یا نکالے جہاں تک رہی بات منیجمنٹ کی تو منیجمنٹ کی جانب سے ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ سرمایہ کار کو سرمایہ نکالنے سے روک سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی حمایت اور پہلگام واقعے کی تحقیقات کے لیے خود کو پیش کرنے پر چین کے شکرگزار ہیں، وزیراعظم
حمزہ گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ اسٹاک ایکسچینج ایک پرائیویٹ باڈی ہے اور اس میں ریگولیٹر حکومت ہے اب جب بے یقینی کی کیفیت ہے اور اس کی کوئی مدت بھی مختص نہیں تو اسٹاک مارکیٹ کا نیچے جانا ہی نظر آتا ہے اور اس وقت سرمایہ کاروں کے منافع کو اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت کشیدگی پاک بھارت کشیدگی کا اسٹاک مارکیٹ پر اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی پاک بھارت کشیدگی کا اسٹاک مارکیٹ پر اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاک بھارت کشیدگی کہ اسٹاک مارکیٹ حمزہ گیلانی سرمایہ کار تنویر ملک ہے اور اس ایک لاکھ صورت حال ہے کہ اس کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم