حقوق کے حصول کیلئے 26 نکات پر سب کو اکھٹا کرینگے، مولانا ہدایت الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل بارڈر ٹریڈ و ساحل کے ثمرات کو لوٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ زبردستی مسلط قوتیں عوام کے خیرخواہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بارڈر بندش سے لاکھوں لوگ اور خاندان معاشی مسائل کیساتھ نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہڑتال کی کامیابی میں تاجر برادری نے ہر سطح پر ساتھ دیا۔ حقوق بلوچستان مہم کے سلسلے میں 11 مئی کو علماء و مشائخ کنونشن اور 25 مئی کو یوتھ جرگہ منعقد کیا جائے گا۔ قومی مسائل کے حل، اجتماعی حقوق کے حصول کیلئے 26 نکات بنائے ہیں۔ اس پر سب کو متحد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حق دو بلوچستان مہم کو تیز اور منظم کیا جائے گا۔ حق دو بلوچستان مہم کامیاب ہوگی تو مزدور سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو حقوق و وسائل فراہم کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل بارڈر ٹریڈ و ساحل کے ثمرات کو لوٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ زبردستی مسلط قوتیں عوام کے خیرخواہ نہیں۔ حق دو بلوچستان مہم کے سلسلے میں نوجوانوں و خواتین اور طباء، اساتذائے کرام اور علمائے کرام کو منظم کیا جائے گا۔ مہم کو اہل بلوچستان کے ہر طبقے، ہر قوم کا تحریک بنا کر حقوق حاصل کرلیں گے۔ بلوچستان کے حقوق کے حصول کے لئے اسمبلی کے اندر و باہر آواز بلند کرنے کے ساتھ حقوق بلوچستان کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کریں گے۔ بلوچستان کے باہر دیگر صوبوں میں بھی کنونشن جرگے و تقاریب اور کانفرنسز منعقد کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر اسلام آباد کی طرف بھی مارچ کر سکتے ہیں۔ سب کو متحد کرنے، حقوق کے حصول کے لئے سب کی مشاورت سے 26 نکات بنالیے ہیں۔ 26 نکات پر سب کو متحد اور پھر اس کی کامیابی کے حصول کیلئے عملی منظم جدوجہد کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان مہم حقوق کے حصول بلوچستان کے کریں گے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔