کراچی، گلشن حدید لنک روڈ پر تیز رفتار بس الٹنے سے خاتون سمیت تین افراد جاں بحق، آٹھ زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی:
گلشن حدید لنک روڈ کے قریب تیز رفتار مسافر بس کے الٹنے کے افسوسناک واقعے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جب کہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔
ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق افراد کی شناخت 35 سالہ کوثر، 59 سالہ عبدالغفور، اور 25 سالہ غلام فرید کے طور پر ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی ٹریفک حادثات میں4 افراد جاں بحق ایک نوجوان شدید زخمی
تینوں افراد کی لاشیں ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
زخمی ہونے والوں کی تعداد 8 بتائی جا رہی ہے، جنہیں فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور امدادی کام جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔