کوہستان، گاڑی کھائی میں گرنے سے خواتین و بچوں سمیت خاندان کے 8 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ریسکیو ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کی جانب سفر کرنے والی ایک گاڑی خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثہ لوئر کوہستان میں قراقرم ہائی وے پر مٹہ بانڈہ کے مقام پر پیش آیا۔ اسلام ٹائمز۔ لوئر کوہستان میں ایک المناک حادثے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کی جانب سفر کرنے والی ایک گاڑی خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثہ لوئر کوہستان میں قراقرم ہائی وے پر مٹہ بانڈہ کے مقام پر پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 8 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کا تعلق راولپنڈی سے بتایا گیا ہے، جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر وقوع پر پہنچیں اور مقامی افراد کی مدد سے امدادی کارروائی شروع کی۔ لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی شناخت کا عمل مکمل کیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صبر کی دعا کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔