کرک : ایم پی اے خورشید خٹک کی قیادت میں مظاہرین کا ٹول پلازہ پر دھاوا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں مقامی رکنِ اسمبلی خورشید خٹک کی قیادت میں مشتعل مظاہرین نے این ایچ اے کے نئے ٹول پلازہ پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین نے ٹول پلازے کے کیبن اکھاڑ کر ہٹا دیے اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ایک ہی ضلع میں دو مقامات پر ٹول ٹیکس کا نفاذ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کڑپہ کے مقام پر پہلے ہی ٹول ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ حال ہی میں ایک اور ٹول پلازہ قائم کر کے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ نئے ٹول پلازے کے لیے نہ تو کوئی باضابطہ نیلامی کی گئی اور نہ ہی کسی سرکاری فورم سے منظوری حاصل کی گئی۔
تین روز قبل این ایچ اے حکام اور پرائیویٹ کنٹریکٹرز نے پرانے ٹول پلازہ کے مقام پر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ٹیکس وصولی شروع کی تھی جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نئے ٹول پلازے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ واقعے کے بعد ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مظاہرین نے ٹول پلازہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔