اسلام آباد، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں آج بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، شمال مشرقی، وسطی پنجاب اور گلگت بلتستان میں آج بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ چند مقامات پر ژالہ باری اور موسلادھار بارش بھی ہوسکتی ہے۔
لاہور میں تیز آندھی اور بارشلاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں رات کو تیز آندھی اور بارش نے گرمی کی شدت کم کردی، آندھی سے لیسکو ریجن میں درجنوں فیڈر ٹرپ کرگئے اور لاہور سمیت متعدد نواحی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق بالائی سندھ اور شمال مشرقی بلوچستان میں بھی رات کے اوقات میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش کی وجہ سے فیڈرٹرپ کرگئے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش کی وجہ سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ندھی اور کے ساتھ ا ندھی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔