بھارت کا پاکستان سے شپنگ اور پوسٹل روابط بھی معطل کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستانی فلیگ بردار جہازوں پر پابندی پر بھارت کو لندن میری ٹائم ثالثی ایسوسی ایشن میں گھسیٹا جاسکتا ہے چارٹر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت کے لیے شپنگ انشورنس بڑھ جائیگی دیگر شپنگ لائنز سے چارٹر کرنا مشکل ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کا پاکستان کے خلاف ایک اور محاذ کھولنے کی تیاریاں، بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت پاکستان کے ساتھ شپنگ اور پوسٹل روابط بھی معطل کرنے پر غور کررہا ہے۔ حسب روایت بھارتی میڈیا شپنگ اور پوسٹل روابط کی معطلی سے پاکستان کے لیے مشکلات کا واویلہ کررہا ہے وہیں شپنگ سیکٹر کے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف دیگر محاذوں کی طرح اس محاذ پر بھی بھارت کو منہ کی کھانی پڑیگی۔ پاکستان کے پرچم بردار کارگو بحری جہاز ملائشیا سے کارگو بھارت لے جانے کے لیے چارٹرڈ ہیں۔
اس وقت پاکستانی فلیگ بردار بحری جہاز سبی کلکتہ کی بندرگاہ پر موجود ہے یہ جہاز 26 ہزار ٹن کوئلہ ملائیشیا سے لے کر بھارت پہنچا ہے جبکہ دوسرا بحری جہاز چترال بجی مئی کے پہلے ہفتے میں ملائیشیا سے کارگو لے کر بھارت پہنچے گا۔ پاکستانی فلیگ بردار جہازوں پر پابندی پر بھارت کو لندن میری ٹائم ثالثی ایسوسی ایشن میں گھسیٹا جاسکتا ہے، چارٹر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت کے لیے شپنگ انشورنس بڑھ جائیگی دیگر شپنگ لائنز سے چارٹر کرنا مشکل ہوگا۔ واضح رہے کہ بھارت انڈو پاک میری ٹائم پروٹوکول معطل کرنے پر غور کررہا ہے جو 2006ء میں طے کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے پر بھارت کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔