لاہور؛ موٹر سائیکلیں چوری کروانے والی خاتون ساتھیوں سمیت گرفتار، ویڈیو بھی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
لاہور:
شاد باغ پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مرد و زن پر مشتمل چار رکنی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار کر لیا۔
ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں موٹر سائیکل چوری کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزمان گلی محلوں اور بازاروں میں کھڑی موٹر سائیکل کو ماسٹر چابیوں سے کھول کر فرار ہو جاتے۔
پولیس چیکنگ سے بچنے کے لیے ملزمہ موٹر سائیکل پر ساتھ سوار ہو جاتی اور وارادت کے بعد ملزمان خاتون ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل فروخت کر دیتے۔
ملزمان نے چند روز قبل سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے سے موٹر سائیکل چوری کی تھی۔
ایس پی سٹی بلال احمد کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 5 موٹر سائیکل، 6 موبائل، نقد رقم، اسلحہ اور ماسٹر چابیاں برآمد کی گئیں۔ گرفتار ملزمان میں عادل، عثمان، شہباز اور عائشہ بی بی شامل ہے جن کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش جاری ہے۔
ایس پی سٹی نے اسٹریٹ کرائم کرنے والے متحرک گینگ کی گرفتاری پر ایس ایچ او شاد باغ محمد شہریار، سب انسپکٹر عمران اور ٹیم کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ انسداد جرائم کے حوالے سے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔