پی ٹی آئی 26 نومبر احتجاج: 82 ملزمان کا اعتراف جرم، عدالت نے سزا سنادی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پی ٹی آئی 26 نومبر احتجاج: 82 ملزمان کا اعتراف جرم، عدالت نے سزا سنادی WhatsAppFacebookTwitter 0 2 May, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس) راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج کے کیس کے 82 ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف 24 اور 26 نومبر 2024 کے احتجاج پر درج 24 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہوئی جس دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران 1609 ملزمان میں سے عدالت پیش ہونے والے 560 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔
عدالت میں پیش کیے گئے 82 ملزمان نے جج کے سامنے اعتراف جرم کیا اور بیان حلفی جمع کرایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انہیں احتجاج کے لیے اکسایا۔
ملزمان نے عدالت میں بیان دیا کہ مقامی اور مرکزی قیادت نے پرتشدد احتجاج کی ترغیب دی تھی، ہم غریب مزدور ہیں، ہمارے ساتھ رعایت برتی جائے۔
ملزمان نے عدالت میں تحریری بیان بھی دیا کہ وہ آئندہ کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے۔
بعد ازاں عدالت نے اعتراف جرم کرنے والے82 ملزمان کو 4،4 ماہ قید اور 15،15 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا: وفاقی وزیر خزانہ افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا: وفاقی وزیر خزانہ وزیراعظم سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے میں امن کیلئے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی قومی اتحاد و یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کا کردار قابل تحسین ہے، نواز شریف ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کےلئے مقرر پہلگام واقعہ: پاکستان نے تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کا کمیشن بنانےکی پیشکش کردی اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاپتہ شہری کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اعتراف جرم پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔