عالمی برادری پاکستان کے اندر بھارتی دہشت گردی کا نوٹس لے، صدر ، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
صدراور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال، بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار
بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے ، پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا ،پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، ملاقات میں اتفاق
صدر مملکت آصف علی زر داری اورزیراعظم محمد شہبازشریف نے بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے ، پاکستان ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا ،پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے ۔ملاقات میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنمائوں نے بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے ، پاکستان ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔ جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، پاکستانی قوم متحد ہے ، اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ افواج ِپاکستان کسی بھی خطرے یا جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں بھارت کے جارحانہ رویے ، کسی بھی ممکنہ جارحیت پر پاکستان کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس نے پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی قیادت کی جانب سے بغیر کسی تحقیقات کے لگائے گئے الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ، بے پناہ انسانی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ عالمی برادری دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو فنڈنگ، تربیت اور بھیجنے میں بھارت کے ملوث ہونے کا نوٹس لے ۔صدر مملکت نے بھارتی بے بنیاد الزامات پر حکومت کے ردعمل اور ذمہ دارانہ انداز میں صورتحال سے نمٹنے کو سراہا۔ صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی خودمختاری ، علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔اجلاس میں کشمیری عوام کے حق ِخودارادیت کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔وزیر اعظم نے کوویڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد صدر مملکت کی صحت بارے بھی دریافت کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔