نیویارک (اوصاف نیوز)امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ حملے پر بھارت کا ردعمل وسیع تر علاقائی تنازع کا باعث نہیں بنے گا۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، جو کہ 2000 کے بعد سے خطے میں ہونے والے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔

بھارت نے بغیر ثبوت کے واقعے کے سرحد پار سے تعلق ہونے کا الزام لگایا ہے جبکہ پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت نے الزام کو مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جے ڈی وینس نے ’فاکس نیوز‘ کے شو ’اسپیشل رپورٹ وِد بریٹ بائر‘ میں انٹرویو کے دورا ن کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ بھارت اس دہشت گردانہ حملے کا اس طرح جواب دے گا جس سے وسیع تر علاقائی تنازع پیدا نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان، جس حد تک ذمہ دار ہے بھارت کے ساتھ تعاون کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ دہشت گرد، جو کبھی کبھار ان کی سرزمین سے کارروائی کرتے ہیں ان کا شکار کیا جائے اور ان سے نمٹا جائے۔‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ امریکی رہنماؤں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی‘ اور ’غیر انسانی‘ قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان پر براہ راست الزام لگائے بغیر بھارت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

بھارت، خطے میں امریکا کا ایک اہم پارٹنر ہے کیونکہ واشنگٹن کا مقصد، نئی دہلی کی مدد سے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ دوسری جانب 2021 میں پڑوسی ملک افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اس کی اہمیت کم ہونے کے باوجود پاکستان، واشنگٹن کا اتحادی ہے۔

حالیہ دنوں میں، واشنگٹن نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور ’ذمہ دارانہ حل‘ تک پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے۔ اسلام آباد اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور اس نے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی جنگلات میں لگی آگ بےقابو، ایمرجنسی نافذ،علاقے میں ہیلی کاپٹر پہنچ گئے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل