WE News:
2026-07-24@10:46:35 GMT

بچے دانی یا تھیلا ؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

بچے دانی یا تھیلا ؟

پچھلا مریض صحت مند ہوکر گھر جا چکا ہے جس کی کہانی ہم نے لکھی ۔لیکن ہمیں علم ہے کہ آپ اس کہانی کے پیچھے چھپی معلومات کا انتظار کر رہے ہیں ۔ تو چلیے ہمارے ساتھ …

کلاس کاآغاز ہوا ۔

اچھا بھئی کیا تشخیص کی ؟

پوسٹ پارٹم ہیمرج … ( بالکل اسی طرح جیسے برین ہیمرج ہوتا ہے )

پوسٹ پارٹم ہیمرج یعنی پی پی ایچ ….کیوں ہوتا ہے یہ ؟

جی حمل کے دوران بچے دانی کاحجم بہت بڑھ جاتا ہے ۔عورت کے پورے جسم کاخون بچے دانی میں دوڑتا ہے جو بچے کو آکسیجن فراہم کرتا ہے اور بچے سے کاربن ڈائی آسائیڈ لے کر ماں کے گردوں تک لے جاتا ہے ۔

جب بچے دانی سے بچہ نکل آتاہے تب اس خون کو واپس ماں کی طرف Divert کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ بچے دانی فٹافٹ سکڑ کر اپنے اصلی حجم پہ آ جائے جو کہ ایک ناشپاتی کی شکل کی ہوتی ہے ۔

سوچیئے ایک ایسا تھیلا جس میں تین چار کلو کا بچہ ، بچے کے گرد پانی اور آنول موجود ہو ، اسے ایک دم سکڑ کر چھوٹے خربوزے جتنا ہونا ہے تاکہ اس میں موجود خون باہر نہ بہہ جائے بلکہ عورت کی شریانوں میں واپس چلا جائے ۔

اس عمل میں دو چیزیں کام آتی ہیں ، ایک جسم کے فطری ہارمونز جو بچے دانی کو سکڑنے میں مدد دیتے ہیں اور دوسری دوائیں ۔ تحقیق نے بتایا کہ طبعی ہارمونز اس سکڑاؤ کے لیے ناکافی ہیں اور بہت سی عورتیں بچے دانی کے ناکام سکڑاؤ کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں جیسے تاج محل میں دفن ہوئی ملکہ ممتاز محل جو چودہواں بچہ پیداکرتے ہوئے زچگی میں مر گئی کہ تھیلا بچے دانی سکڑ نہ سکی ۔
پھر سائنس عورت کی مدد کو آئی اور ایسی دوائیں بنائی گئیں جو بچے کی پیدائش پہ بچے دانی کو فورا سکڑنے میں مدد دیتی ہیں ۔
ممتاز محل کی طرح آج بھی بہت سی بدقسمت عورتیں زندگی ہار جاتی ہیں جہاں زچگی کے وقت ٹرینڈ سٹاف کے ساتھ مطلوبہ دوائیں موجود نہ ہوں ، اور بچے دانی سے خون کااخراج رک نہ سکے ۔

پوسٹ پارٹم ہیمرج ( PPH) کتنی قسم کا ہوتا ہے ؟

دو __ پرائمری اور سیکنڈری۔

ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟

پرائمری پی پی ایچ زچگی کے وقت ہوتا ہے جب بچے دانی سے بچہ باہر نکل آئے اور بعد میں خون کا اخراج نہ رک سکے ۔

اور سیکنڈری ؟

سیکنڈری پی پی ایچ زچگی کے بعد چالیس دن تک ہو سکتا ہے ۔ بچے دانی کو اپنی اصلی حالت میں آنے کے لیے چالیس دن چاہییں اور اسے Puerperal period کہا جاتا ہے ۔ ان دنوں میں اگر پی پی ایچ ہو جائے تو سیکنڈری پی پی ایچ کہتے ہیں ۔

اس کی وجوہات کیا ہوتی ہیں ؟

سیکنڈری پی پی ایچ کی سب سے بڑی وجہ انفکشن ہے ۔ اگر زچہ صفائی کاخیال نہ رکھے ، روزانہ غسل نہ کرے ، سینٹری پیڈز صاف نہ ہوں تو بیکٹریا یا جراثیم ویجائنا کے راستے داخل ہو کر بچے دانی تک پہنچ کر اسے کمزور کرتے ہیں ۔ انفکشن کی وجہ سے بچے دانی کے سکڑاؤ میں کمی آجاتی ہے اور خون بہنا شروع ہو جاتا ہے ۔ زیادہ خون بہنے کے ساتھ خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں ۔

کیا کوئی اور وجہ بھی ہے سیکنڈری پی پی ایچ کی ؟

جی اگر زچگی کے وقت آنول کا کوئی ٹکڑا بچے دانی میں رہ جائے تو اس وجہ سے بھی بچے دانی کا سکڑاؤ نہیں ہوگا اور انفکشن بھی ہو جائے گی ۔

کیا سیکنڈری پی پی ایچ خطرناک ہے ؟

جی ہاں ، اکثر اموات سیکنڈری پی پی ایچ کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ زچہ گھر پہ ہوتی ہے ، خون کا اخراج ہوتا رہتا ہے ، ہیموگلوبن گر جاتاہے ، انفکشن پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور لوگ اس کو سیریس لیتے ہی نہیں ۔ عموما گھر پہ ہی ٹوٹکوں میں مشغول رہتے ہیں ۔

میڈیکل ہیلپ کیوں نہیں لی جاتی ؟

ایک تو نا علمی اور دوسرے اخراجات .

. زچگی کے خرچ کے بعد دوبارہ سے ہسپتال جانے کا تصور ان کو مالی نقصان سے ڈراتا ہے ۔

کیا یہ درست ہے ؟

ہر گز نہیں ۔ ہر بچہ پیداکرتے وقت ہر بات ذہن میں رکھتے ہوئے اس کی تیاری کرنی چاہئے بالکل اس طرح جیسے سفر پہ جاتے ہوئے آپ ممکنہ خطرات اور ناگہانی سے نمٹنے کا انتظام کرتے ہوئے گھر سے نکلتے ہیں کہ اگر ٹھنڈ ہو گئی تو سویٹر رکھ لیا جائے ، بارش ہو گئی تو چھتری ..

اسی طرح حمل اور زچگی کے تمام ممکنہ خطرات ، مشکلات اور ناگہانی کی تیاری کرکے حمل اور بچے کی خواہش کے سفر پہ نکلنا چاہئے ۔

کیا پی پی ایچ کا علاج صرف دوائیں ہیں ؟

پی پی ایچ کا علاج سب سے پہلے دواؤں سے کیا جاتا ہے ۔ دواؤں میں بھی مختلف قسم کے انجکشن ہیں جو ایک کے بعد دوسرا لگایا جاتاہے ۔ اگر دواؤں سے خون کا خروج بند نہ ہو تو دوسرا قدم سرجری کرنے کا ہے ۔

سرجری میں کیا کیا جاتا ہے ؟

سرجری میں مختلف قسم کے آپریشن ہیں ۔

ان کا فیصلہ کس بات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے ؟

سرجری کرنے کا فیصلہ تو اس بات پہ ہے کہ دوائیں اثر نہیں کر رہیں اور مریضہ کی حالت بگڑ رہی ہے ۔ اس کے بعد کونسا آپریشن کیا جائے اس کا دارومدار بہت سی باتوں پہ ہے … ڈاکٹر نے کیا تشخیص بنائی ہے ؟ مریضہ کی حالت کتنی بگڑی ہوئی ہے ؟ ڈاکٹر کے پاس کتنا وقت ہے ؟ ڈاکٹر کی ذاتی قابلیت کیا ہے اور اسے کونسا آپریشن کرنا آتا ہے اور کونسا نہیں ؟ اور ہمارے خیال میں یہ سب سے اہم نکتہ ہے .. ڈاکٹر کی قابلیت ۔

اس بار کے لیے اتنا ہی ..

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بچہ بچہ دانی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی عروت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بچہ بچہ دانی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی عروت بچے دانی زچگی کے ہوتا ہے جاتا ہے ہے اور کے لیے کے بعد خون کا

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار