کشمیرکا حل ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہونا چاہئے، صرف مرہم پٹی نہیں، پاکستانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
کشمیرکا حل ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہونا چاہئے، صرف مرہم پٹی نہیں، پاکستانی سفیر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 May, 2025 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز )پاکستان کے خلاف بھارت کی سازش خود بھارت کے گلے پڑگئی اور عالمی پلیٹ فارمز پر مسئلہ کشمیر کی گونج سنائی دی۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے حل کی اپیل کی ہے۔ امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ہی پاک بھارت کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اور کشمیر کا حل ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہونا چاہیے۔ سفیر نے کہا کہ یہ صرف عارضی حل نہیں بلکہ بنیادی حل نکالنا ضروری ہے۔
پاکستان نے بھارت کے ممکنہ فوجی حملے کے خدشے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری، بالخصوص سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور منصفانہ حل کے لیے مداخلت کریں۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے فاکس نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں خطے کو لاحق خطرات پر کھل کر بات کی اور دنیا کو خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا ایک بار پھر جوہری تصادم کے دہانے پر ہے۔سفیر رضوان سعید شیخ نے انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے، کسی بھی غلط فہمی یا مہم جوئی کا نتیجہ ناقابل تصور ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو ایک بڑا انسانی اور عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ موقع ہے کہ صدر ٹرمپ عالمی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف وقتی مرہم نہ رکھیں بلکہ مسئلہ کشمیر کا بنیادی حل نکالیں۔پاکستانی سفیر نے انٹریو میں انکشاف کیا کہ بھارت نے پہلگام حملے کے فورا بعد، محض 10 منٹ کے اندر، بغیر کسی تحقیق یا ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے، حالانکہ واقعہ ایک انتہائی دشوار گزار اور دور افتادہ وادی میں پیش آیا تھا جہاں فوری طور پر تحقیق ممکن ہی نہیں تھی۔ پاکستان کا مقف ہے کہ اس کے پاس معتبر انٹیلیجنس رپورٹس ہیں جن کے مطابق بھارت پاکستان پر جوابی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق بھارت کی حکومت اور میڈیا خطے کو جنگی جنون کا یرغمال بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، جبری آباد کاری، اور پانی کے بہا کو روکنے جیسے اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی اقدام کے مترادف ہے، سندھ طاس معاہدہ کئی جنگوں کے باوجود قائم رہا، مگر اب بھارت کی دھمکیاں انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی انتظامی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر دھرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کو عالمی اصولوں اور انصاف کے تحت حل کرے۔ رضوان سعید شیخ نے زور دیا کہ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، اس بار صورتحال کو نظرانداز نہ کرے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اس بار وقتی مرہم نہیں، بلکہ اصل مسئلہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل نکالنا ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا پاکستان سے فضائی اور زمینی راستوں سے ڈاک اور پارسل کے تبادلے معطل کرنے کا فیصلہ بھارت کا پاکستان سے فضائی اور زمینی راستوں سے ڈاک اور پارسل کے تبادلے معطل کرنے کا فیصلہ کینالز سے متعلق بلاول کا دعوی درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا، علی محمد آزاد کشمیر: بڑھتی ہوئی کشیدگی، بھارتی جارحیت کے امکانات کے باعث ہنگامی اقدامات کا جائزہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 3 ہزار سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا بھارتی مطالبہ مسترد ؛پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر پیکیج ملنے کا امکان ٹرمپ نے سعودی عرب کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سفیر رضوان سعید شیخ رضوان سعید شیخ نے پاکستانی سفیر عالمی برادری مسئلہ کشمیر نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔