غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کو وحشیانہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ گھروں کو تباہ، نوجوانوں کو دوران حراست لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیراہتمام بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف مظفرآباد میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ذرائع کے مطابق ریلی کی قیادت حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کی۔ ریلی میں مظفرآباد کی سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کے قتل عام، گھروں کو مسمارکرنے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب مبذول کرائی اور اقوام متحدہ پر دیرینہ تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیا۔

غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کو وحشیانہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ گھروں کو تباہ، نوجوانوں کو دوران حراست لاپتہ کیا جا رہا ہے، حریت قیادت کو قید کر کے سیاسی خلا پیدا کیا جا رہا ہے اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بھارت میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کو ہراساں کیے جانے، ان پر تشدد اور تعلیم ترک کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت دانستہ طور پر کشمیری نوجوانوں کو تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر مفلوج کر رہی ہے تاکہ ان کے جذبہ حریت کو کمزور کیا جا سکے۔ ریلی کے شرکاء نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لیں اور کشمیریوں پر 76سال سے جاری بھارتی مظالم بند کرائیں۔

انہوں نے بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے، کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت دلوانے اور غیر قانوی طور پر نظربند کشمیری حریت قیادت کی فوری رہائی پر زور دیا۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے مزید دس جنگیں لڑنے سے پاکستان کے آرمی چیف کے بیان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن مملکت پاکستان کی کامیاب ڈپلومیسی نے بھارت کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کھولے گئے محاذ کا پاکستانی عوام، میڈیا، سیاسی، سماجی، مذہبی، معاشی اور معاشرتی اکابرین نے بھرپور جواب دیا اور بھارتی پروپیگنڈے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

غلام محمد صفی نے جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ ریلی کے شرکاء میں کمشنر مظفرآباد چوہدری گفتار، کشمیری حریت رہنماء ایڈوکیٹ پرویز احمد، شیخ عبدالماجد، عزیر احمد غزالی، مشتاق السلام، سید منظور احمد شاہ، محمد اشرف ڈار، شیخ عبد المتین، زاہد اشرف، منظور احمد ڈار، عبدالمجید لون، سید گلشن، چوہدری شاہین اقبال، مشتاق حسین، زاہد صفی، نذیر کرنائی، عبدالمجید میر، شوکت جاوید میر، قاری روحیل، نسیم امتیاز، قاضی سہیل اور دیگر شامل تھے۔ ریلی کے اختتام پر شہدائے کشمیر کی بلندی درجات اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غلام محمد صفی نے کیا جا رہا ہے کہا کہ بھارت انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم