بھارت نے پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
حواس باختہ بھارت نے پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کے اپنی بندرگاہوں میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔
بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پہلے پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا اور پھر بھارت نے پاکستان سے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل پر پابندی کے جواب میں پاکستان نے آئی پی ایل کی لائیو اسٹریمنگ پر پابندی لگادی
اب بھارت نے ایک اور جارحانہ قدم اٹھاتے ہوئے پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کے داخلے پر بھی پابندی لگادی ہے۔
ڈائریکٹریٹ جنرل شپنگ ممبئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی پرچم والے بحری جہاز کی بھارت کی کسی بھی بندرگاہ میں داخلے پر پابندی ہوگی اور بھارتی پرچم والا کوئی جہاز پاکستان کی کسی بندرگاہ کا دورہ نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود پر پابندی سے بھارتی ایئرلائنز کو کتنا نقصان ہوگا؟
یاد رہے کہ انڈو پاک میری ٹائم پروٹوکول 2008 میں طے پایا تھا، اس پروٹوکول کے تحت دونوں ممالک کے پرچم بردار بحری جہاز ایک دوسرے کی بندرگاہ پر جاسکتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاک بھارتی کشیدگی اور جنگ کے بادل منڈلانے کے باوجود پاکستان کا پرچم بردار کارگو بحری جہاز کلکتہ کی پورٹ پر موجود تھا، جہاں اس نے کوئلہ اتارا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی 2 بڑی معیشتوں نے باہمی تجارتی پابندیوں کا اعلان کیوں کیا؟
اکستانی پرچم بردار بحری جہاز کا چارٹر ایگری منٹ حالیہ کشیدگی سے قبل طے کیا گیا اور پاکستانی بلک کارگو جہاز ‘سبی’ ملائشیا سے 26 ہزار ٹن کوئلہ لے کر کلکتہ کی بندرگاہ ہالدیہ پہنچا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بحری جہاز بھارت پاکستان پاکستانی پرچم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بحری جہاز بھارت پاکستان پاکستانی پرچم پاکستانی پرچم والے بحری جہاز پر پابندی بھارت نے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔