پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے 10 دن، بھارت کو 2 ارب روپے کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارتی پروازوں کے لئے پاکستانی فضائی حدود بندش کے 10 واں روز متاثرہ پروازوں کی 1000سے تجاوز کرگئی جبکہ نقصان کا حجم 200 کروڑ تک پہنچ گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے10 روز کے دوران 1000 بھارتی پروازیں متاثر ہوئی ہیں،جس کے سبب انڈیا کی مختلف ائیرلائنز کو200 کروڑ بھارتی روپے سے زائد نقصان کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ائیرانڈیا، آکاسا ائیر،اسپائس جیٹ، انڈیگو ائیر،ائیر انڈیا ایکسپریس کی پروازیں مسلسل منسوخی کا شکار ہیں کیونکہ پاکستان کی فضائی حدود بندش سے بھارتی طیاروں کو آدھے بھارت سے ہوکر بحیرہ عرب سے جانا پڑ رہا ہے۔
لمبے روٹ سے فیول اور دیگر دگنے اخراجات نے بھارتی ائیرلائنز کی کمر توڑ کر رکھ دی،انڈیگو ائیرکاوسط ایشیائی ملکوں کے لیے تاحال فضائی آپریشن معطل ہے۔
دہلی، ممبئی امرتسر بنگلور احمد آباد سے دبئی کی بھارتی پروازیں بھی شدید متاثر ہیں،امریکا جانے والی بھاتی پروازوں کےعملے کو یورپ میں تبدیل کرنا پڑ رہا ہے جبکہ دوبار لینڈنگ اورری فیولنگ سے بھارتی ائیرلائنز کوائیرپورٹ چارجز کی مد میں بھی یومیہ کروڑوں کے اخراجات کا سامنا ہے۔
بھارتی مسافروں کو دہلی، ممبئی، امرتسر احمد سے امریکا برطانیہ یورپ کی پروازوں کا دورانیہ 4 سے 10 گھنٹے تک بڑھنے سے شدید پریشانی لاحق ہے۔
بھارتی مسافروں کو پروازیں منسوخ ہونے پرائیرلائنزسے ریفنڈز بھی نہ مل سکے،پاکستان نے ابتدائی طورپر 23 اپریل سے 23 مئی تک ایک۔ماہ تک کے لیے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود ایک ماہ کے لئے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
واضح رہے2019 میں پاکستان کی فضائی حدود بندش سے بھارتی ایرلائنز کو 700 کروڑ بھارتی روپے کا جھٹکا لگا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔