ایف بی آر کو اکاؤنٹس منجمد کرنے، سٹاک کی نگرانی کا بھی اختیار مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
( وقاص عظیم )وفاقی حکومت نے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈینس 2025 جاری کر دیا،آرڈینس کے تحت انکم ٹیکس آرڈینس 2001 میں تین ترامیم کی گئی ہیں، نئے ٹیکس قوانین کے مطابق ایف بی آر کو اکاؤنٹس منجمد کرنے، سٹاک کی نگرانی کا بھی اختیار مل گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈینس 2025 جاری کر دیا،آرڈینس کے تحت انکم ٹیکس آرڈینس 2001 میں تین ترامیم کی گئی ہیں،آرڈینس کے تحت فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں بھی متعدد ترامیم کی گئی ہے۔
قصور : پسند کی شادی نہ ہونے پراپنےہی گھر کا صفایا کرنے والی لڑکی پکڑی گئی
ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کے لیے مزید اختیارات دیئے گئے ہیں، پہلی اپیل کے خاتمے پر ایف بی آر قابل ادا ٹیکس کی فوری ریکوری کر سکے گا،ٹیکس ریکوری کے لیے اکاؤنٹ فوری منجمد کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا گیا،ایف بی آر کو کاروباری مقامات پر افسر تعینات کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق پیداوار اور اسٹاک کی نگرانی کا بھی ایف بی آر کو اختیار دے دیا گیا،کاروباری مقامات پر ایف بی آر کے افسران تعینات ہوسکیں گے، ایف بی آر قابل ادا ٹیکس کو فوری ریکور کرسکیں گے، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام افسران کے اختیارات بڑھ گئے۔
سانحہ نو مئی کے تمام مقدمات یکجا کرنے کی درخواست 8 مئی کو سماعت کیلئے مقرر
نئے ٹیکس قوانین کے مطابق حکومتی افسران کو کسی بھی بزنس، جگہ، فیکٹری پر غیر قانونی سامان کو قبضے میں لینے کا اختیار مل گیا۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری کی منظوری سے ٹیکس لا ترمیمی آرڈینس 2025 جاری کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر کو کے مطابق ا رڈینس دیا گیا
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔