پہلگام فالس فلیگ: عوام کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کے بعد رونما ہونے والی صورتحال میں پاکستان عوام کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی قابل تحسین ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کو پیغام: پاکستان کا 450 کلومیٹر تک مار کرنے والے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ
ایسا اس لیے ہے کہ پاکستانی قوم اور مسلح افوج تسبیح کے دانوں کی مانند ہیں، قدرتی آفات ہوں یا دشمن سے جنگ عوام ہمیشہ مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔
ذرائع کے مطابق اب بھی وہی جذبہ قائم ہے، عوام کا پاک فوج کے قافلے پر پھول پھینک کر اظہار یکجہتی کیا اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے۔
ذرائع کے مطابق فوجی جوانوں نے ہمیشہ کی طرح قوم کی محبت ہاتھ اٹھا کر وصول کی اور ایک ہونے کا ثبوت دیا۔
اس حوالے سے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کیخلاف جنگ کے محاذ پر قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہماری عوام کا جذبہ اور محبت پاک افواج کے حوصلے بلند کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام واقعہ: سوئٹزر لینڈ کے بعد یونان نے بھی پاکستان کی تجویز کی حمایت کردی
دفاعی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اظہار یکجہتی پاکستان آرمی پہلگام فالس فلیگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اظہار یکجہتی پاکستان ا رمی پہلگام فالس فلیگ اظہار یکجہتی عوام کا پاک فوج
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔