انڈیا پاکستان تنازعہ: جنگ ہوئی تو امریکا اور چین پر کیا اثرات ہونگے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پہلگام واقعے کے بعد سے اب تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ رہا، بھارت ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے نامور سپر اسٹارز کے سوشل میڈیا اکاونٹس بھی بلاک کیے جا رہے ہیں۔ یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ بھارت خطے میں بجائے امن کے جنگی صورتحال کو بڑھاوا دے رہا ہے جو کہ خطے اور پوری دنیا کے لیے نقصان کا باعث ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر بھارت کا جنگی جنون ختم نہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو گئی تو اس سے خطے میں کتنا نقصان ہو سکتا ہے اور اس کے چین اور امریکا پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ اس حوالے سے وی نیوز نے ماہرین سے ان کی رائے دریافت کی۔
امن سب کے مفاد میں ہے، سابق سفیر مسعود خالدسابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ایک مکمل جنگ سے بچا جا سکے گا، کیونکہ یہ بھارت اور پاکستان بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور کوئی بھی تنازعہ غیر متوقع طور پر بڑھ سکتا ہے جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری مشترکہ آبادی تقریباً 1.
انہوں نے بتایا کہ امریکا اور چین کے مفاد میں ہے کہ خطے میں امن قائم رہے۔ امریکا بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک اسٹریٹجک توازن کے طور پر دیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ بھارت اس مقصد سے ہٹ کر تنازعات میں نہ الجھے۔ اسی طرح پاکستان اپنی اقتصادی ترقی پر توجہ دینا چاہتا ہے اور جنگ اس مقصد کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ لہٰذا امریکا اور چین دونوں کے پاس بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کو فروغ دینے کی مضبوط وجوہات ہیں۔
ایک سوال پر مسعود خالد کا کہنا تھا کہ ایک کھلی جنگ کے نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک مستقل چیلنج ہے اور اس کا حل ہونا غیر یقینی ہے۔ تاہم، بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی بیگانگی کی وجہ سے اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک فرضی جنگ تقریباً 1.5 بلین لوگوں کی مارکیٹ کو تباہ کر دے گی جو امریکا اور چین دونوں کے اقتصادی مفادات کے خلاف ہے لہٰذا امن سب کے مفاد میں ہے۔
جنگ شروع ہوئی تو قابو سے باہر ہوسکتی ہے، ریسرچر فیضان ریاضاسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ(اپری) کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور ایک دوسرے کے ہمسایہ اور قریب ممالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو وہ بہت جلد قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جو دونوں کے لیے بہت خطرناک ہوگی۔
فیضان ریاض نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں ’نو فرسٹ یوز‘ کی پالیسی پر عمل کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ بھارت صرف اسی صورت میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا اگر اس پر پہلے ایٹمی حملہ کیا جائے۔ دوسری طرف پاکستان اس پالیسی پر عمل نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کا عام (غیر ایٹمی) فوجی طاقت میں پاکستان پر بہت زیادہ برتری ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ ایک طاقتور ہمسائے کے دباؤ میں نہیں آ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے پاکستان نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے اگر بھارت کبھی پاکستان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے، کراچی بندرگاہ کو بند کرے، یا پاکستان میں پانی کی آمد کو روکنے کی کوشش کرے تو پاکستان ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے، یہ اپنی حفاظت کا ایک مناسب طریقہ ہے تاکہ بھارت اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرے۔
مزید پڑھیے: پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا پردہ بھی چاک ہوگیا
انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے اس واقعے پر فکرمند ہے اور بھارت کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کے خلاف ایک غیر جانبدار اور آزاد بین الاقوامی تحقیقات کے لیے تیار ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کرے گا لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور اور مناسب جواب دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان صورتحال کو قابو میں رکھے گا، جیسے کہ اس نے سنہ 2019 کے ’آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ‘ میں کیا تھا، جب اس نے ذمہ داری کے ساتھ جواب دیا اور کشیدگی کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔
فیضان ریاض نے کہا کہ عقلی انتخاب کے نظریے کے مطابق بھارت کی قیادت کو ہوش مندی سے کام لینا چاہیے اور پاکستان پر حملے سے گریز کرنا چاہیے، چاہے بھارتی میڈیا جنگی جنون میں مبتلا ہو کر حکومت پر ایسا قدم اٹھانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہو جو بھارت کے اپنے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج نہ صرف بڑی ہیں بلکہ جدید ہتھیاروں سے لیس بھی ہیں، اس لیے جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے بھی کہ دونوں ممالک کی آبادی بہت زیادہ ہے۔
فیضان ریاض نے کہا کہ جنگ کی صورت میں پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی معیشت بڑی ہے لیکن اسے بھی نقصان ہوگا کیونکہ غیر ملکی کمپنیاں جو بھارت میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں وہ پیچھے ہٹ سکتی ہیں جس سے بھارت کی معاشی ترقی متاثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سنہ 2019 کے بعد سے سفارتی تعلقات منجمد ہیں اور پہلگام حملے کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے ہیں اور اگر کشیدگی بڑھی تو تعلقات مزید خراب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال جنوبی ایشیا کے لیے اچھی نہیں ہے، یہ خطہ پہلے ہی دنیا کے سب سے کم جڑے اور کم تعاون کرنے والے خطوں میں سے ایک ہے اور جب 2 ایٹمی ہمسائے آپس میں بات چیت بھی نہ کر رہے ہوں تو خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو امریکا اور چین دونوں کو مداخلت پر مجبور ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات حالیہ برسوں میں بالکل واضح ہو چکی ہے کہ بھارت، امریکا کے کیمپ میں شامل ہے، کیونکہ امریکا کی پالیسی چین کو گھیرنے (Containment Policy) پر مبنی ہے اسی وجہ سے امریکا گزشتہ کئی سالوں سے بھارت کو مضبوط کر رہا ہے اور اسے جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ امریکا چاہتا ہو کہ بھارت پاکستان کے خلاف پوری جارحیت دکھائے البتہ امریکا یہ ضرور چاہتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات ختم کرے اور چین کے خلاف بھارت کے ساتھ اتحاد کرے جو کہ پاکستان کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف چین نے بھارت پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ اگر پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ کشمیر ہمیشہ پاکستان کی شہ رگ رہا ہے اور پاکستان نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی ہمیشہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے، بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ، مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر سکی اور اگر اس بار جنگ چھڑتی ہے، تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ یہ جنگ مسئلہ کشمیر کو کسی فیصلہ کن انجام تک پہنچا سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی قابض ہے جو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بن چکا ہے اور جہاں بھارت نے 5 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں لیکن خصوصاً مغربی ممالک کے لیے بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے اس لیے وہ بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے وہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرنے سے گریز کرتے ہیں، تاکہ بھارت ناراض نہ ہو۔ یوں وہ یہ معاملہ بھارت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ خود پاکستان کے ساتھ نمٹے۔
فیضان ریاض نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کشمیر پر پہلے ہی 3 جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن ان جنگوں کے باوجود کشمیر کا مستقبل نہ پاکستان اور نہ ہی بھارت کے حق میں فیصلہ کن طور پر طے ہو سکا اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ اگر اب کوئی محدود روایتی جنگ بھی ہوتی ہے تو وہ بھی مسئلہ کشمیر کو کسی واضح یا فیصلہ کن حل تک نہیں پہنچا سکے گی۔
جنگ خطے کے باہر بھی شدید تباہی لائے گی، پروفیسر عائشہ یونسقائداعظم یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلیشن کی پروفیسر عائشہ یونس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خطے کی آبادی دنیا کی آبادی کے 25 فیصد ہے، جیسا کہ دنیا کی مجموعی آبادی 8 بلین سے زائد ہے، اس کا یہ 2.80 بلین بنتا ہے اور یہ خطہ کسی نہ کسی طرح سے آپس میں جڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا پاکستان کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ایک بہت بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان نظر آتا ہے اور اب تو جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دونوں ممالک چونکہ نیوکلیئر پاور رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر نیوکلیئر جنگ ہوتی ہے تو اس سے انسانی نقصان تو ہوگا ہی مگر اس کے ساتھ اس خطے میں ایک طویل عرصے تک شاید کوئی ایگریکلچر نہیں ہو پائی گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پورا ماحولیاتی نظام تباہ ہو جائے گا۔ اس جنگ کے خطے میں بہت بڑے پیمانے پر نقصانات ہونگے اور لوگ شاید اس خطے میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعے پر پاکستان کی سفارتی کامیابی اور بھارت کی سفارتی ہزیمت، وجوہات کیا ہیں؟
پاک بھارت جنگ کے چین اور امریکا پر اثرات کے حوالے سے عائشہ یونس کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان کی جنگ خطے کے لیے مکمل تباہی ہے بلکہ خطے کے باہر بھی شدید تباہی کا سبب بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کا انحصار لیبر کے حوالے سے ایشیا پر ہے اور اس سے وہ بہت متاثر ہونے والے ہیں اور میرے خیال سے یہ ممکن نہیں ہے کہ امریکا اور چین، پاکستان اور انڈیا کو پراکسی کی طرح تحفظ فراہم کریں گے کیونکہ ان دونوں ممالک کے لیے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان میں سے کون انڈیا پاکستان کے تنازعہ کو ختم کروانے میں مدد کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک یہ مسئلہ سلجھانے کی کوشش کرے گا اس کا ظاہر ہے ایشیائی خطے پر کافی اثر پڑے گا کہ اس خطے میں کون سی پاور زیادہ اثر رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ کون سی پاور زیادہ امن کو فروغ دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا اور چین پاک بھارت جنگ اور مغربی ممالک پاک بھارت کشیدگی پروفیسر عائشہ یونس سابق سفیر مسعود خالد فیضان ریاض
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا اور چین پاک بھارت جنگ اور مغربی ممالک پاک بھارت کشیدگی پروفیسر عائشہ یونس سابق سفیر مسعود خالد فیضان ریاض اور پاکستان کے درمیان فیضان ریاض نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے امریکا اور چین کہ دونوں ممالک انڈیا پاکستان کے درمیان جنگ ایٹمی ہتھیار ہے کہ بھارت پاکستان کی مسعود خالد عائشہ یونس کہ امریکا ہے اور اس کہا کہ اس بھارت کے بھارت کی حوالے سے بھارت کو ہے کہ وہ سکتا ہے کے ساتھ نہیں ہے کے خلاف ہیں اور سکتی ہے رہا ہے کے لیے کہ خطے چین کے کہ ایک کے بعد
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔