ابدالی میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، رانا ثنااللہ نے بھارت کو خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی و بین الصوبائی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
فیصل آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ابدالی میزائل کے تجربے کو پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اگر دشمن نے جارحیت کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
یہ بھی پڑھیں بھارت کو پیغام: پاکستان کا 450 کلومیٹر تک مار کرنے والے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ
رانا ثنااللہ نے کہاکہ ہماری میزائل ٹیکنالوجی دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سے کئی گنا بہتر ہے اور بھارت کو پاکستان کے گزشتہ تجربات کو یاد رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی جارحیت میں پہل چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت نے پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا تو ہماری افواج اور قوم ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
مشیر وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو ’مردِ مومن‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ پاکستان کی سالمیت کے لیے ہر وقت جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
رانا ثنااللہ نے قوم پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے دشمنوں خصوصاً بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپنے قومی جذبات کو برقرار رکھیں کیونکہ مودی پاکستان کی آزادی، سلامتی اور معیشت کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مودی حکومت پاکستان کی معیشت کی بحالی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدہ منسوخ کروانے اور مالی امداد کی قسط رکوانے کے لیے سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی ہی کوششیں ’گالم گلوچ بریگیڈ‘ کی طرف سے کی جاتی رہیں جو ملک کو دیوالیہ کرنے کے قریب لے گئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ انڈیا پہلگام واقعے کو کشمیریوں پر ظلم و ستم کے لیے استعمال کررہا ہے لیکن کشمیری حقِ خودارادیت لے کر رہیں گے اور کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں دنیا کے اہم ممالک کوشش میں ہیں کہ پاک بھارت تنازع آگے نہ بڑھے، وزیر دفاع خواجہ آصف
رانا ثنااللہ نے کہاکہ پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے تحفظ کا خواہاں ہے بلکہ بھارتی عوام کے لیے بھی خیرسگالی کے جذبات رکھتا ہے۔ اگرچہ خوشحالی ابھی پوری طرح نہیں آئی لیکن پاکستان درست سمت میں گامزن ہے اور یہ ملک انشااللہ کامیاب ہو کر آگے بڑھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پہلگام واقعہ رانا ثنااللہ مشیر وزیراعظم مودی سرکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پہلگام واقعہ رانا ثنااللہ مودی سرکار وی نیوز رانا ثنااللہ نے ابدالی میزائل پاکستان کے پاکستان کی انہوں نے بھارت کو نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز