اسلام آباد:

ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) نے ایشیا اور پیسیفک میں غذائی تحفظ کے لیے26 ارب ڈالر اضافی فنڈنگ فراہم کرنے کا اعلان کر دیا اور اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا۔

اے ڈی بی اعلامیے کے مطابق طویل المدتی خوراک اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے  معاونت میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے، اضافی فنڈنگ سے 8 سالہ پلان کے تحت مجموعی طور پر 40 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

اے ڈی بی کا خوراک کے تحفظ کے لیے معاونت پلان 2022 تا 2030 ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فنڈز خوراک کے تمام مراحل پر محیط ایک جامع پروگرام کو سپورٹ کریں گے اور اس کا مقصد رکن ممالک کو مالی اور پالیسی معاونت فراہم کرنا ہے اور پروگرام کا مقصد ایشیا اور پیسیفک میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ روزگار کے مواقع، ماحولیاتی اثرات میں کمی اور زرعی سپلائی چینز کو مضبوط کرنا ہے۔

صدر اے ڈی بی کے مطابق غیر معمولی خشک سالی، سیلاب، شدید گرمی زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، قدرتی وسائل کی تنزلی سے زرعی پیداوا متاثر ہو رہی ہے، صورت حال خوراک کے تحفظ اور دیہی روزگار کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ توسیعی معاونت ممالک کو غذائی قلت کم کرنے، معیار بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی، توسیعی معاونت ماحولیاتی تحفظ میں معاون ثابت ہوگی، اضافی فنڈنگ کسانوں اور زرعی کاروباروں کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اے ڈی بی کے لیے

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار