نہیں معلوم مجھے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے یا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہیں جانتے کہ انہیں امریکا کے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے یا نہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہاکہ وہ تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور نہیں کررہے۔ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ آئندہ مدت کے لیے بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیں ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کی طرف سے کریمیا کے جزیرے سے دستبرداری کے حوالے سے پرامید
ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکی شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کے خلاف قانونی کارروائی منصفانہ، شفاف اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے، جس میں انہیں اپنا دفاع کرنے کا مناسب موقع ملے جس کا حق انہیں امریکی آئین دیتا ہے؟ تو ٹرمپ نے کہاکہ میں اس حوالے سے کچھ نہیں جانتا کیوں کہ میں وکیل نہیں ہوں۔
یاد رہے کہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں پر صدر ٹرمپ تنقید کی زد میں ہیں، لیکن ان کا اصرار ہے کہ وہ جو اقدامات کررہے ہیں وہ ضروری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ عرصہ قبل تیسری مدت کے لیے صدارتی الیکشن لڑنے کے اشارے پر آئینی اور قانونی ماہرین کی طرف سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں، کیوں کہ آئین کے مطابق کوئی بھی شخص دو بار امریکی صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہو سکتا ہے۔
اگر صدر ٹرمپ تیسری مرتبہ صدر کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے لیے انہیں آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت اور 50 امریکی ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں سے کم از کم 38 کی توثیق کی ضرورت ہوگی، جو بظاہر ایک مشکل کام ہے۔
تاہم حالیہ انٹرویو میں انہوں نے استفسار کرنے پر بتایا کہ میں بہترین چار سال گزار کر عہدہ کسی اور کے حوالے کرنا چاہتا ہوں، اور ایسا شخص ایک عظیم ریپبلکن ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی محکمہ خارجہ کی از سرِ نو تشکیل کی تجویز
ان کا کہنا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ذہین آدمی ہیں، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی بہترین انسان ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی آئین امریکی صدر تیسری مدت الیکشن دستور کی پاسداری ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ا ئین امریکی صدر تیسری مدت الیکشن دستور کی پاسداری ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر انہیں ا کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔