امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہیں جانتے کہ انہیں امریکا کے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے یا نہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہاکہ وہ تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور نہیں کررہے۔ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ آئندہ مدت کے لیے بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کی طرف سے کریمیا کے جزیرے سے دستبرداری کے حوالے سے پرامید

ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکی شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کے خلاف قانونی کارروائی منصفانہ، شفاف اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے، جس میں انہیں اپنا دفاع کرنے کا مناسب موقع ملے جس کا حق انہیں امریکی آئین دیتا ہے؟ تو ٹرمپ نے کہاکہ میں اس حوالے سے کچھ نہیں جانتا کیوں کہ میں وکیل نہیں ہوں۔

یاد رہے کہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں پر صدر ٹرمپ تنقید کی زد میں ہیں، لیکن ان کا اصرار ہے کہ وہ جو اقدامات کررہے ہیں وہ ضروری ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ عرصہ قبل تیسری مدت کے لیے صدارتی الیکشن لڑنے کے اشارے پر آئینی اور قانونی ماہرین کی طرف سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں، کیوں کہ آئین کے مطابق کوئی بھی شخص دو بار امریکی صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہو سکتا ہے۔

اگر صدر ٹرمپ تیسری مرتبہ صدر کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے لیے انہیں آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت اور 50 امریکی ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں سے کم از کم 38 کی توثیق کی ضرورت ہوگی، جو بظاہر ایک مشکل کام ہے۔

تاہم حالیہ انٹرویو میں انہوں نے استفسار کرنے پر بتایا کہ میں بہترین چار سال گزار کر عہدہ کسی اور کے حوالے کرنا چاہتا ہوں، اور ایسا شخص ایک عظیم ریپبلکن ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی محکمہ خارجہ کی از سرِ نو تشکیل کی تجویز

ان کا کہنا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ذہین آدمی ہیں، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی بہترین انسان ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی آئین امریکی صدر تیسری مدت الیکشن دستور کی پاسداری ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ا ئین امریکی صدر تیسری مدت الیکشن دستور کی پاسداری ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر انہیں ا کے لیے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان