کیلیفورنیا چین کے ساتھ تجارت کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے گا، گورنر کیلیفورنیا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 May, 2025 سب نیوز

واشنگٹن :امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے جاپانی میڈیا “نکی ایشیا” کے ساتھ ایک آن لائن انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی نے کیلیفورنیا کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اور کیلیفورنیا چین کے لئے “اپنے تجارتی دروازے کھلے رکھے گا”۔ نیوسم نے کہا کہ کیلیفورنیا چین کے لئے “مستحکم تجارتی شراکت دار” رہا ہے۔ فریقین نے صوبوں، پریفیکچرز، کاؤنٹیوں اور شہروں کے درمیان تعاون کی متعدد یادداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں۔

گزشتہ سال چین کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے قومی سطح پر چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھایا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کیلیفورنیا چین سمیت تمام تجارتی شراکت داروں کے لئے ” دروازے کھولے ہوئے” ہے کیونکہ عالمی تجارت زیرو سم گیم نہیں ہے اور “ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں”۔

ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسیوں کے بارے میں  نیوسم نے کہا کہ  کیلیفورنیا نہ صرف ایشیا کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارت کرتا ہے بلکہ سلیکون ویلی کی ٹیک کمپنیاں بھی ایشیا میں مربوط سپلائی چین اور مارکیٹ رکھتی ہیں ۔ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے سیاحت، تجارت، چھوٹے کاروباری اداروں اور بڑی کارپوریشنز  پر بہت منفی اثر ڈالا ہے، یہاں تک کہ ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے  “کیلیفورنیا کو براہ راست اور بالواسطہ طور پر اربوں ڈالر کا معاشی نقصان” ہوا ہے۔
اپریل میں صدر ٹرمپ کی جانب سے نام نہاد ‘مساوی محصولات’ کے اعلان کے بعد نیوسم نے دیگر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ کیلیفورنیا کی مصنوعات کے خلاف جوابی کارروائی نہ کریں۔ کیلیفورنیا پہلی امریکی ریاست بھی بن گئی ہے جس نے ٹرمپ انتظامیہ پر محصولات کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

کیلیفورنیا  معاشی قوت کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے  طاقتور ریاست ہے.

نیوسم نے 23 اپریل کو اعلان کیا کہ مستند اعداد و شمار کے مطابق ، 2024 میں ریاست کیلیفورنیا کی  جی ڈی پی نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک علیحدہ “معیشت” کے طور پر حساب لگایا جائے تو یہ جی ڈی پی امریکہ ، چین اور جرمنی کے بعد دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین میں غیر ملکی تجارت کی پریمئم پراڈکٹس کی خریداری کا حجم 16.7 بلین یوآن سے متجاوز ہونے کی توقع، چینی وزارت تجارت چین میں غیر ملکی تجارت کی پریمئم پراڈکٹس کی خریداری کا حجم 16.7 بلین یوآن سے متجاوز ہونے کی توقع، چینی وزارت تجارت چینی صدر روس کا سرکاری دورہ کریں گے، وزارت خارجہ چائنا میڈیا گروپ کے اعلیٰ معیار کے فلم اور ٹیلی ویژن پروگرامز   کی روس میں نشریات کا آغاز پاک بھارت کشیدگی: صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا افواجِ پاکستان سے مکمل اظہارِ یکجہتی پہلگام واقعہ: بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر پابندی لگادی امریکی چیمبر آف کامرس کا  وائٹ ہاؤس کو خط،   ٹیرف میں فوری کمی کا مطالبہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی