ملالہ یوسف زئی کا مشن: ہم جنس پرستی کا فروغ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-03-3
وجیہ احمد صدیقی
ملالہ یوسف زئی آج کل امریکا کے دورے پر ہیں، ایک نہایت متنازع واقعے کے بعد نہایت کم عمری میں نوبل پرائز کا ملنا دنیا کے لیے حیران کن تھا ہی لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں انسانی اخلاق کے اسلامی اصول معیار کی حیثیت رکھتے ہوں وہاں بدکاری کو فروغ دینے کے لیے ملالہ نے جوائے لینڈ جیسی ہم جنس پرستی پر مشتمل فلم بنائی تاکہ پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی کو نہ صرف فروغ دیا جا سکے بلکہ اس کو گناہ سمجھنے والوں کے ذہن سے یہ بھی مٹا دیا جائے کہ یہ غلط کام ہے بلکہ یہ کام کرنے والے اس کام کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کرنٹ مارنے والے پلگ میں اپنی انگلیاں ڈال دیں اور یہ کہیں کہ پلگ میں انگلیاں ڈالنا میرا حق ہے اور کرنٹ کی غلطی ہے جو مجھے تکلیف پہنچا رہا ہے۔ یہ مثال ہم جنس پرستی کے غیر فطری اعمال پر بالکل صادق آتی ہے۔ ملالہ یوسف زئی نے نوبل انعام پاتے ہی اپنے اس عزم کا اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کی وزیراعظم بننا چاہتی ہیں۔ لگتا ایسا ہے کہ اپنے اس مشن کو پورا کرنے سے پہلے وہ پاکستان کو جنسی طور پر ایک آزاد خیال ملک دیکھنا چاہتی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ منشیات کے حوالے سے بھی ملالہ کا نظریہ بالکل مختلف ہے۔
ملالہ یوسف زئی نے برطانیہ میں تعلیم کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران انہوں نے دوستوں کے ساتھ بھنگ (ویڈ پائپ) کا نشہ کیا تھا۔ اس بات کا انکشاف نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ملالہ نے گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔ اس نشے کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے ملالہ کے مطابق جب اس کا اثر ظاہر ہونے لگا تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اچانک لندن سے واپس اپنے گائوں سوات پہنچ گئی ہوں اور پھر وہی خوف، وہی چیخیں، وہی خون آلود مناظر آنکھوں کے سامنے آ گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران انہیں شدید گھبراہٹ کا سامنا ہوا، دوستوں نے انہیں ایک کمرے میں لے جا کر سنبھالنے کی کوشش کی، جبکہ انہیں مسلسل الٹیاں ہو رہی تھیں۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اسپتال نہ جاؤ، کیونکہ خون میں اثر کی وجہ سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔
ملالہ یوسف زئی نے اعتراف کیا کہ اْس رات وہ پوری رات جاگتی رہیں، نیند کوسوں دور تھی، اور انہیں یہی خوف لاحق تھا کہ شاید وہ دوبارہ زندہ نہ اُٹھ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملالہ عادی نشئی ہیں اگر انہوں نے اتفاقاً نشہ کیا تھا تو اسپتال جانے میں کیا حرج تھا لیکن اگر وہ اسپتال جاتیں تو شاید یہ بات مْستند ہو جاتی کہ ملالہ ڈرگز کی عادی ہیں۔ وہ آج سے نہیں بلکہ سوات سے اس کی عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دوستوں نے منع کیا ہوگا باقی کہانی انہوں نے گارڈین میں اپنی پارسائی کے لیے بیان کر دی ہے۔
اب ذرا ذکر ہو جائے جوائے لینڈ کا۔ ملالہ یوسفزئی نے فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کوئی سرگرمی یا کسی مسئلہ کے حق میں دلیل نہیں بلکہ فن کا ایک شاہکار ہے۔ یہ فلم پاکستان کے لیے ایک محبت بھرے خط کی مانند ہے، جو پاکستانی معاشرے کے اندر آزادی کی خواہش اور مردانگی کے کلچر کے منفی اثرات کو عکاسی کرتی ہے۔ ملالہ کے الفاظ میں، ’’جوائے لینڈ‘‘ کسی خاص نقطہ نظر کی تائید یا مخالفت نہیں کرتی بلکہ ہر کردار کو ہمدردی کے ساتھ پیش کرتی ہے، چاہے وہ بوڑھا خاندان کا سردار ہو یا وہ نوجوان بیوی جو اپنے حقوق کی طالب ہو۔ یہ فلم جنسی تعصبات، خاندان کے نظام، اور عورتوں کی دوستی اور یکجہتی جیسے موضوعات کو سامنے لاتی ہے۔ ملالہ کا کہنا ہے کہ یہ فلم پاکستانی ثقافت، کھانے، فیشن، اور سب سے بڑھ کر لوگوں کی عکاسی کرتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ملک کی منفی تصویر پیش کرنے کے بہانے بند کرایا۔ حقیقت میں، یہ فلم پاکستانی عوام کی خواہشات، ان کی آزادی اور خوشیوں کی کہانی ہے۔ ملالہ جوائے لینڈ کی ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی ہیں، فلم جوائے لینڈ کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز میں ملالہ کے ساتھ جمائمہ خان بھی شامل تھیں۔ اور یہ فلم پاکستان میں ٹرانس جینڈر لوگوں کے مسائل پر روشنی ڈالتی ہے، جس کا مقصد خواتین، رنگین لوگوں، اور نوجوان فنکاروں جیسی آوازوں کو اُجاگر کرنا ہے۔
آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ ملالہ کا مشن کیا ہے؟ ملالہ قطعی طور پر پاکستان کا فخر نہیں ہے وہ پاکستان کو ایک بدکار ہم جنس پرست ملک کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے اور وہ ہم جنس پرستوں کی ہی وزیر اعظم بننا چاہتی ہے۔ ’’ملالہ کی حالیہ یادداشتیں کسی حقیقت کا اظہار کرنے سے زیادہ اپنی شخصیت کو ایک خاص انداز میں پیش کرنے کا موقع حاصل کر رہی ہیں۔ وہ مغرب کے لیے اپنی شخصیت کو ایک ہم جنس پرست کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جس میں ثقافتی بغاوت کے ذریعے خود کو انسانیت کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ’بھنگ‘ والا لمحہ، ’سیکس بم‘ کی کہانی، اور دیگر ذاتی اعترافات، عالمی سیاسی سرگرمی سے ذاتی کہانی کی جانب ایک تیز تبدیلی کا اظہار ہیں۔ ملالہ کی کہانی ہمیشہ دو دنیائوں سے جْڑی تھی، ایک جس نے اسے تربیت دی، اور دوسری جس نے اسے بیچا۔ ملالہ یہ سب کچھ اپنے آپ کو مغرب کے لیے قابل قبول بنانے اور اپنی ضرورت کو برقرار رکھنے کے لیے کر رہی ہے۔
یہ باہر داد حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور گھر میں بے چینی پھیلانے کا سبب ہے۔ طالبان کی گولی سے لے کر اوکسفورڈ کے ’بھنگ‘ تک کا سفر کہیں نہ کہیں اپنی رہنمائی سے محروم ہو چکا ہے، جو صدمے اور ڈراما کے درمیان راستہ کھو چکا ہے۔ یہ کہنا کہ اس کے شوہر نے شادی سے پہلے اسے سیکس بم کہا تھا یہ سب اپنے آپ کو مکمل طور پر مغرب زدہ ثابت کرنے کی کوشش ہے ایسا لگتا ہے کہ مغرب کے پاس اب ملالہ کی کوئی افادیت نہیں رہی اور ملالہ اپنا چورن بیچنے کے لیے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملالہ یوسف زئی یہ فلم پاکستان ہم جنس پرستی جوائے لینڈ کے ساتھ کیا تھا اپنے ا
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ