پاکستان افغانستان تعلقات میں بداعتمادی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-03-2
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں مذاکرات کا دوسرا دور ترکیہ میں ختم ہوگیا ہے اور ان مذاکرات میں ترکیہ اور قطر نہ صرف میزبانی کا حق ادا کر رہے تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا کوئی درمیانی راستہ نکل سکے۔ قطر میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے راؤنڈ میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑی ثالثی سامنے آ سکے گی اور حالات جنگ یا کشیدگی کے بجائے بہتری کی طرف آگے بڑھیں گے۔ لیکن دوسرے راؤنڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں بداعتمادی کے کئی پہلو دیکھنے کو ملے جو مذاکرات کی کامیابی میں مشکلات کا سبب بنے اور عملاً مذاکرات ناکام ہوگئے۔ پاکستان نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ جب تک افغان حکومت ہمیں تحریری طور پر اس بات کی یقین دہانی نہیں کرائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی بات آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ جبکہ مذاکرات کے دوسرے حصے میں افغان حکومت مسلسل تحریری طور پر کسی بھی طرز کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ افغان حکومت کے بقول ہم داخلی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ پاکستان کو تحریری ضمانت دے سکیں۔ البتہ ہم پاکستان کے تحفظات پر یقین رکھتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ پاکستان کے تحفظات کو مذاکرات کے نتیجے میں دور کیا جا سکے۔ قطر اور ترکیہ کی کوشش کے باوجود ایسا لگتا ہے جیسے افغان حکومت کسی بڑی سیاسی کمٹمنٹ کے لیے تیار نہیں تھی۔ پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ افغان حکومت یا افغان طالبان کسی اور کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے اور اس ایجنڈے کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بقول افغان حکومت نے پاکستان کے تحفظات پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی اور نہ عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی ایسی صورت میں مذاکرات ناکام ہی ہونے تھے۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے دفاع کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ پاکستان کا یہ بھی الزام تھا کہ ان مذاکرات کی ناکامی یا اس میں بڑی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ بھارت کا طرز عمل بنا ہے۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے خلاف جو باہمی گٹھ جوڑ ہے اس کی بنیاد پاکستان مخالفت پر قائم ہے۔ طالبان کی حکومت پاکستان کے تحفظات سے زیادہ ان تمام تر معاملات میں بھارت کے مفادات کو زیادہ تقویت دے رہی ہے جس سے حالات بہتر ہونے کے بجائے اور زیادہ خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ان مذاکرات کا بڑا نتیجہ نہ آنے کی وجہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا با اختیار نہ ہونا تھا اور ان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے کابل میں اپنی حکومت سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان افغانستان کے حالات میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا بھی ہے اور سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر دونوں ملکوں کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ افغان حکومت براہ راست پاکستان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان معاملات میں ٹال مٹول اختیار کی جا رہی ہے جس سے پاکستان میں ان مذاکرات کے تناظر میں مایوسی پائی جاتی تھی۔ اگرچہ طالبان حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کے تحفظات اپنی جگہ درست ہیں لیکن انہیں کابل کی حکومت کے معاملات کو بھی سمجھنا ہوگا اور خاص طور پر یہ سمجھنا کہ تمام تر معاملات کا حل ہماری حکومت کے پاس ہے، ایسا نہیں ہے۔ ان کے بقول افغانستان کے بعض علاقوں میں ٹی ٹی پی کے بارے میں ہمدردی بھی پائی جاتی ہے اور جب بھی ان کے خلاف کوئی بڑے آپریشن کی بات کی جاتی ہے تو وہاں سے افغان حکومت کو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیاب نہیں ہوا اور قطر یا ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا تصفیہ کرانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پھر صرف جنگ کا راستہ بچے گا جو دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں۔ خاص طور پر پاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے دو صوبے خیبر پختون خوا اور بلوچستان حالت جنگ میں ہیں۔ ایسے میں ایک طرف بھارت سے خطرہ ہے تو دوسری طرف افغان بارڈر بھی پاکستان کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے کافی تشویشناک ہے اور ہمیں ہر صورت میں افغانستان سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول وہ واحد شخص ہے جو پاکستان افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر امریکی صدر کیوں خاموش ہیں اور کیوں بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ امریکا نے افغانستان سے بگرام کا فوجی اڈا مانگا ہے اور تاحال افغانستان نے اس پر رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے۔ امریکا اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کو درمیانی راستہ نکالتا ہے تو اس میں اس کا اپنا مفاد زیادہ ہے اور وہ افغانستان میں بیٹھ کے چین کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے افغانستان میں اس کی موجودگی ضروری ہے اور یہ کام وہ طالبان کی حکومت سے کروانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہوں بلکہ اس میں اور زیادہ بداعتمادی بڑھے تاکہ اس کا براہ راست فائدہ بھارت کو ہو تو پاکستان کو مستقل بنیادوں پر دبائو میں رکھا جا سکے۔ ایسے لگتا ہے پاکستان کی سول اور فوجی اداروں نے یہ طے کر لیا ہے افغانستان کے بارے میں اب ہمیں کسی تضاد میں نہیں رہنا اور جو بھی فیصلہ کرنا ہے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر افغانستان کے حوالے سے سخت گیر اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طالبان حکومت کس حد تک قطر اور ترکیہ کی بات کو تسلیم کرتی ہے یا ان کے دبائو کا سامنا کرتی ہے۔ کیونکہ اگر یہ دونوں بڑے ممالک بڑا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے یا ان کی سفارت کاری ناکام ہوئی ہے تو اس صورت میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات ایک بڑی جنگ کی طرف ہی جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے کوشش کی تھی کہ حالات کو اس نہج پہ نہ لے کے جایا جائے جہاں جنگ کے سوا کوئی اور آپشن موجود نہ ہو۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا تھا جب افغان حکومت بھی اپنے طرز عمل میں نہ صرف لچک کا مظاہرہ کرتی بلکہ عملی طور پر کچھ ایسے اقدامات کرتی جو پاکستان کو ٹی ٹی پی کے تناظر میں مطمئن کر سکے۔ لیکن اگر افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہ کی اور اس پر پاکستان کو اعتماد میں نہ لیا تو پھر حالات کی درستی کا مستقبل کافی مخدوش نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے پاکستان سے تعلقات کے تناظر میں افغان حکومت دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک دھڑا سمجھتا ہے کہ پاکستان کا موقف درست ہے اور ہمیں اس کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے جبکہ دوسرا دھڑا حالات کی خرابی کی ساری ذمے داری پاکستان پہ ڈال کر خود کو بچانا چاہتا ہے۔ اس لیے اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیاب نہیں ہوا تو اس کی ایک وجہ بھی افغانستان میں ان فیصلوں پر داخلی تقسیم بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے تحفظات کے درمیان مذاکرات کے لیے تیار نہیں کامیاب نہیں افغان حکومت مذاکرات کا ان مذاکرات مذاکرات کے پاکستان کو کہ پاکستان کے بقول کے خلاف کی کوشش ہے اور
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین