Jasarat News:
2026-06-03@07:25:38 GMT

پاکستان افغانستان تعلقات میں بداعتمادی

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251030-03-2
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں مذاکرات کا دوسرا دور ترکیہ میں ختم ہوگیا ہے اور ان مذاکرات میں ترکیہ اور قطر نہ صرف میزبانی کا حق ادا کر رہے تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا کوئی درمیانی راستہ نکل سکے۔ قطر میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے راؤنڈ میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑی ثالثی سامنے آ سکے گی اور حالات جنگ یا کشیدگی کے بجائے بہتری کی طرف آگے بڑھیں گے۔ لیکن دوسرے راؤنڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں بداعتمادی کے کئی پہلو دیکھنے کو ملے جو مذاکرات کی کامیابی میں مشکلات کا سبب بنے اور عملاً مذاکرات ناکام ہوگئے۔ پاکستان نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ جب تک افغان حکومت ہمیں تحریری طور پر اس بات کی یقین دہانی نہیں کرائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی بات آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ جبکہ مذاکرات کے دوسرے حصے میں افغان حکومت مسلسل تحریری طور پر کسی بھی طرز کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ افغان حکومت کے بقول ہم داخلی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ پاکستان کو تحریری ضمانت دے سکیں۔ البتہ ہم پاکستان کے تحفظات پر یقین رکھتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ پاکستان کے تحفظات کو مذاکرات کے نتیجے میں دور کیا جا سکے۔ قطر اور ترکیہ کی کوشش کے باوجود ایسا لگتا ہے جیسے افغان حکومت کسی بڑی سیاسی کمٹمنٹ کے لیے تیار نہیں تھی۔ پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ افغان حکومت یا افغان طالبان کسی اور کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے اور اس ایجنڈے کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بقول افغان حکومت نے پاکستان کے تحفظات پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی اور نہ عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی ایسی صورت میں مذاکرات ناکام ہی ہونے تھے۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے دفاع کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ پاکستان کا یہ بھی الزام تھا کہ ان مذاکرات کی ناکامی یا اس میں بڑی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ بھارت کا طرز عمل بنا ہے۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے خلاف جو باہمی گٹھ جوڑ ہے اس کی بنیاد پاکستان مخالفت پر قائم ہے۔ طالبان کی حکومت پاکستان کے تحفظات سے زیادہ ان تمام تر معاملات میں بھارت کے مفادات کو زیادہ تقویت دے رہی ہے جس سے حالات بہتر ہونے کے بجائے اور زیادہ خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ان مذاکرات کا بڑا نتیجہ نہ آنے کی وجہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا با اختیار نہ ہونا تھا اور ان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے کابل میں اپنی حکومت سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان افغانستان کے حالات میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا بھی ہے اور سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر دونوں ملکوں کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ افغان حکومت براہ راست پاکستان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان معاملات میں ٹال مٹول اختیار کی جا رہی ہے جس سے پاکستان میں ان مذاکرات کے تناظر میں مایوسی پائی جاتی تھی۔ اگرچہ طالبان حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کے تحفظات اپنی جگہ درست ہیں لیکن انہیں کابل کی حکومت کے معاملات کو بھی سمجھنا ہوگا اور خاص طور پر یہ سمجھنا کہ تمام تر معاملات کا حل ہماری حکومت کے پاس ہے، ایسا نہیں ہے۔ ان کے بقول افغانستان کے بعض علاقوں میں ٹی ٹی پی کے بارے میں ہمدردی بھی پائی جاتی ہے اور جب بھی ان کے خلاف کوئی بڑے آپریشن کی بات کی جاتی ہے تو وہاں سے افغان حکومت کو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیاب نہیں ہوا اور قطر یا ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا تصفیہ کرانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پھر صرف جنگ کا راستہ بچے گا جو دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں۔ خاص طور پر پاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے دو صوبے خیبر پختون خوا اور بلوچستان حالت جنگ میں ہیں۔ ایسے میں ایک طرف بھارت سے خطرہ ہے تو دوسری طرف افغان بارڈر بھی پاکستان کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے کافی تشویشناک ہے اور ہمیں ہر صورت میں افغانستان سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول وہ واحد شخص ہے جو پاکستان افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر امریکی صدر کیوں خاموش ہیں اور کیوں بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ امریکا نے افغانستان سے بگرام کا فوجی اڈا مانگا ہے اور تاحال افغانستان نے اس پر رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے۔ امریکا اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کو درمیانی راستہ نکالتا ہے تو اس میں اس کا اپنا مفاد زیادہ ہے اور وہ افغانستان میں بیٹھ کے چین کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے افغانستان میں اس کی موجودگی ضروری ہے اور یہ کام وہ طالبان کی حکومت سے کروانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہوں بلکہ اس میں اور زیادہ بداعتمادی بڑھے تاکہ اس کا براہ راست فائدہ بھارت کو ہو تو پاکستان کو مستقل بنیادوں پر دبائو میں رکھا جا سکے۔ ایسے لگتا ہے پاکستان کی سول اور فوجی اداروں نے یہ طے کر لیا ہے افغانستان کے بارے میں اب ہمیں کسی تضاد میں نہیں رہنا اور جو بھی فیصلہ کرنا ہے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر افغانستان کے حوالے سے سخت گیر اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طالبان حکومت کس حد تک قطر اور ترکیہ کی بات کو تسلیم کرتی ہے یا ان کے دبائو کا سامنا کرتی ہے۔ کیونکہ اگر یہ دونوں بڑے ممالک بڑا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے یا ان کی سفارت کاری ناکام ہوئی ہے تو اس صورت میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات ایک بڑی جنگ کی طرف ہی جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے کوشش کی تھی کہ حالات کو اس نہج پہ نہ لے کے جایا جائے جہاں جنگ کے سوا کوئی اور آپشن موجود نہ ہو۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا تھا جب افغان حکومت بھی اپنے طرز عمل میں نہ صرف لچک کا مظاہرہ کرتی بلکہ عملی طور پر کچھ ایسے اقدامات کرتی جو پاکستان کو ٹی ٹی پی کے تناظر میں مطمئن کر سکے۔ لیکن اگر افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہ کی اور اس پر پاکستان کو اعتماد میں نہ لیا تو پھر حالات کی درستی کا مستقبل کافی مخدوش نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے پاکستان سے تعلقات کے تناظر میں افغان حکومت دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک دھڑا سمجھتا ہے کہ پاکستان کا موقف درست ہے اور ہمیں اس کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے جبکہ دوسرا دھڑا حالات کی خرابی کی ساری ذمے داری پاکستان پہ ڈال کر خود کو بچانا چاہتا ہے۔ اس لیے اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیاب نہیں ہوا تو اس کی ایک وجہ بھی افغانستان میں ان فیصلوں پر داخلی تقسیم بھی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے تحفظات کے درمیان مذاکرات کے لیے تیار نہیں کامیاب نہیں افغان حکومت مذاکرات کا ان مذاکرات مذاکرات کے پاکستان کو کہ پاکستان کے بقول کے خلاف کی کوشش ہے اور

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی