سعودی عرب 2028 سے اے ٹی پی ماسٹرز 1000 ٹینس ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
اے ٹی پی (ATP) نے اعلان کیا ہے کہ 2028 سے سعودی عرب میں سالانہ بنیادوں پر ماسٹرز 1000 ٹینس ایونٹ منعقد کیا جائے گا، جو ہارڈ کورٹ پر کھیلا جائے گا اور سیزن کے آغاز میں ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔
یہ اعلان اے ٹی پی کے چیئرمین انڈریا گاوڈنزی نے پیرس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مردوں کے ٹینس کے اعلیٰ درجے کے مقابلوں میں 1990 کے بعد پہلی بار توسیع ہے، اور سعودی عرب کے ایونٹ کے اضافے سے ماسٹرز کی مجموعی تعداد 9 سے بڑھ کر 10 ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے مجوزہ قانون کی مذمت
نیا ٹورنامنٹ SURJ اسپورٹس انویسٹمنٹس کے اشتراک سے منعقد کیا جائے گا، جو سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) سے منسلک کمپنی ہے۔ سرمایہ کاری کی رقم ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اے ٹی پی نے اسے ’ٹینس کے عالمی منظرنامے کے لیے ایک سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔
سعودی عرب گزشتہ چند برس میں عالمی کھیلوں میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ مملکت نے 2024 سے ڈبلیو ٹی اے فائنلز کی میزبانی بھی شروع کر رکھی ہے اور 2023 سے نیکسٹ جن اے ٹی پی فائنلز بھی ریاض میں منعقد ہو رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ٹینس سعودی نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور یہ کھیل ترقی کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
1000 ٹینس ٹورنامنٹ 2028 PIF اے ٹی پی ماسٹرز سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 1000 ٹینس ٹورنامنٹ اے ٹی پی ماسٹرز اے ٹی پی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔