دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) انعام الحق نے کہا ہے کہ افغانستان میں قریبی مدت میں سیاسی و سماجی استحکام کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور پاکستان کے ساتھ طالبان حکومت کے تعلقات ’دوستی سے زیادہ مجبوری‘ پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق کابل حکومت کے پاس نہ تو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خاتمے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کا کوئی سیاسی حل ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل (ر) انعام الحق نے کہاکہ افغانستان کو سمجھنے کے لیے صرف جغرافیہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ، قبائلی سماج اور پشتون ولی جیسے روایتی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق افغانستان ’ایک پیچیدہ معاشرہ‘ ہے جس کے اندر مذہب، قبیلہ، تاریخ اور طاقت کی حرکیات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، کسی ایک کو بھی الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔

’احسان کا بوجھ قبول نہیں کیا جاتا‘

انہوں نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کئی مستقل عوامل ہیں۔ مذہب، ثقافت، جغرافیہ اور تاریخی روابط لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ تغیر پذیر مسائل بھی موجود ہیں جن میں ٹی ٹی پی، ڈیورنڈ لائن، سرحدی باڑ اور افغان مہاجرین کے معاملات نمایاں ہیں۔ یہی وہ نکات ہیں جو وقتاً فوقتاً دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پیدا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان معاشرے میں ایک تاریخی احساسِ برتری موجود ہے جو اس سوچ سے جنم لیتا ہے کہ ’افغان ہمیشہ آزاد رہے ہیں جبکہ برصغیر غلامی کا شکار رہا‘۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پشتون ولی کا ایک بنیادی اصول خیگڑا (یا شیگڑا) ہے، یعنی اگر کوئی احسان کرے تو پشتون روایت کے مطابق فوری طور پر اس احسان کا جواب دے کر توازن قائم کیا جاتا ہے۔

’پاکستان نے جب افغانوں کی مدد کی تو افغانوں نے اسے احسان سمجھنے کے بجائے ایک عدم توازن کے طور پر لیا اور ردِعمل میں برابری کے لیے سخت رویہ اپنایا۔‘

’طالبان حکومت کے اندر تین بڑے طاقت کے مراکز موجود ہیں‘

انعام الحق کے مطابق طالبان حکومت کے اندر اس وقت تین بڑے طاقت کے مراکز موجود ہیں۔ قندھار گروپ (احمدزئی درانی)، حقانی نیٹ ورک اور کابل کی بیوروکریسی۔

انہوں نے کہاکہ قندھار گروپ زیادہ نظریاتی ہے، جبکہ حقانی نیٹ ورک نسبتاً عملی سوچ رکھتا ہے، تاہم طالبان حکومت ان دونوں کے درمیان ایک مجبوراً مفاہمت کے نتیجے میں قائم ہے۔

ان کے مطابق ٹی ٹی پی اس وقت حقانی نیٹ ورک کے اثر و رسوخ والے علاقوں میں موجود ہے، اور طالبان حکومت نہ تو انہیں نکالنے کی سیاسی مصلحت رکھتی ہے اور نہ ہی ان کے پاس فوجی قوت ہے۔

’ٹی ٹی پی طالبان کے لیے ایک ایسی ہڈی بن چکی ہے جسے نہ نگلا جا سکتا ہے نہ اُگلا، اگر طالبان انہیں نکالتے ہیں تو پاکستان ناراض ہوتا ہے، اگر رکھتے ہیں تو عالمی دباؤ بڑھتا ہے۔‘

’افغانستان کے لیے پاکستان اب بھی سب سے بڑا لازمی دروازہ ہے‘

انہوں نے کہاکہ افغانستان کے لیے پاکستان اب بھی سب سے بڑا لازمی دروازہ ہے، چاہے وہ تجارت ہو، تعلیم، صحت، یا سفری سہولتیں ہوں۔

’افغانستان کی معیشت اور روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کابل حکومت اسلام آباد سے مکمل دوری کا متحمل نہیں ہو سکتی۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں جنہوں نے معاشرتی اور ثقافتی سطح پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں، لیکن اب یہ معاملہ بھی سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری استنبول مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ افغان وفد محدود مینڈیٹ کے ساتھ شریک ہے اور طالبان حکومت کے اندر طاقت کی تقسیم کے باعث کسی بڑے معاہدے کی امید نہیں۔

’افغان مذاکراتی وفد کو قندہار کی قیادت کی طرف سے مکمل خودمختاری حاصل نہیں‘

’افغان وفد کو قندہار کی قیادت کی طرف سے مکمل خودمختاری حاصل نہیں۔ یہ زیادہ تر داخلی طاقت کے توازن کا معاملہ ہے، نہ کہ بین الاقوامی پالیسی کا۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان میں غیر یقینی صورتحال آئندہ برسوں تک برقرار رہ سکتی ہے، اور طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اگر بڑھتے رہے تو علاقائی استحکام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات فی الحال مجبوری کی بنیاد پر چل رہے ہیں، دوستی کی بنیاد پر نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews استنبول مذاکرات افغان طالبان انعام الحق پاک افغان تعلقات ٹی ٹی پی مسئلہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول مذاکرات افغان طالبان انعام الحق پاک افغان تعلقات ٹی ٹی پی مسئلہ وی نیوز طالبان حکومت کے اندر کہاکہ افغانستان انہوں نے کہاکہ نے کہاکہ افغان کہ افغانستان انعام الحق کے مطابق کہ افغان ٹی ٹی پی کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان