افغان طالبان 3 حصوں میں تقسیم، یہ ٹی ٹی پی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے: میجر جنرل (ر) انعام الحق
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) انعام الحق نے کہا ہے کہ افغانستان میں قریبی مدت میں سیاسی و سماجی استحکام کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور پاکستان کے ساتھ طالبان حکومت کے تعلقات ’دوستی سے زیادہ مجبوری‘ پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق کابل حکومت کے پاس نہ تو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خاتمے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کا کوئی سیاسی حل ہے۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل (ر) انعام الحق نے کہاکہ افغانستان کو سمجھنے کے لیے صرف جغرافیہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ، قبائلی سماج اور پشتون ولی جیسے روایتی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق افغانستان ’ایک پیچیدہ معاشرہ‘ ہے جس کے اندر مذہب، قبیلہ، تاریخ اور طاقت کی حرکیات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، کسی ایک کو بھی الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔
’احسان کا بوجھ قبول نہیں کیا جاتا‘انہوں نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کئی مستقل عوامل ہیں۔ مذہب، ثقافت، جغرافیہ اور تاریخی روابط لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ تغیر پذیر مسائل بھی موجود ہیں جن میں ٹی ٹی پی، ڈیورنڈ لائن، سرحدی باڑ اور افغان مہاجرین کے معاملات نمایاں ہیں۔ یہی وہ نکات ہیں جو وقتاً فوقتاً دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پیدا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان معاشرے میں ایک تاریخی احساسِ برتری موجود ہے جو اس سوچ سے جنم لیتا ہے کہ ’افغان ہمیشہ آزاد رہے ہیں جبکہ برصغیر غلامی کا شکار رہا‘۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پشتون ولی کا ایک بنیادی اصول خیگڑا (یا شیگڑا) ہے، یعنی اگر کوئی احسان کرے تو پشتون روایت کے مطابق فوری طور پر اس احسان کا جواب دے کر توازن قائم کیا جاتا ہے۔
’پاکستان نے جب افغانوں کی مدد کی تو افغانوں نے اسے احسان سمجھنے کے بجائے ایک عدم توازن کے طور پر لیا اور ردِعمل میں برابری کے لیے سخت رویہ اپنایا۔‘
’طالبان حکومت کے اندر تین بڑے طاقت کے مراکز موجود ہیں‘انعام الحق کے مطابق طالبان حکومت کے اندر اس وقت تین بڑے طاقت کے مراکز موجود ہیں۔ قندھار گروپ (احمدزئی درانی)، حقانی نیٹ ورک اور کابل کی بیوروکریسی۔
انہوں نے کہاکہ قندھار گروپ زیادہ نظریاتی ہے، جبکہ حقانی نیٹ ورک نسبتاً عملی سوچ رکھتا ہے، تاہم طالبان حکومت ان دونوں کے درمیان ایک مجبوراً مفاہمت کے نتیجے میں قائم ہے۔
ان کے مطابق ٹی ٹی پی اس وقت حقانی نیٹ ورک کے اثر و رسوخ والے علاقوں میں موجود ہے، اور طالبان حکومت نہ تو انہیں نکالنے کی سیاسی مصلحت رکھتی ہے اور نہ ہی ان کے پاس فوجی قوت ہے۔
’ٹی ٹی پی طالبان کے لیے ایک ایسی ہڈی بن چکی ہے جسے نہ نگلا جا سکتا ہے نہ اُگلا، اگر طالبان انہیں نکالتے ہیں تو پاکستان ناراض ہوتا ہے، اگر رکھتے ہیں تو عالمی دباؤ بڑھتا ہے۔‘
’افغانستان کے لیے پاکستان اب بھی سب سے بڑا لازمی دروازہ ہے‘انہوں نے کہاکہ افغانستان کے لیے پاکستان اب بھی سب سے بڑا لازمی دروازہ ہے، چاہے وہ تجارت ہو، تعلیم، صحت، یا سفری سہولتیں ہوں۔
’افغانستان کی معیشت اور روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کابل حکومت اسلام آباد سے مکمل دوری کا متحمل نہیں ہو سکتی۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں جنہوں نے معاشرتی اور ثقافتی سطح پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں، لیکن اب یہ معاملہ بھی سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری استنبول مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ افغان وفد محدود مینڈیٹ کے ساتھ شریک ہے اور طالبان حکومت کے اندر طاقت کی تقسیم کے باعث کسی بڑے معاہدے کی امید نہیں۔
’افغان مذاکراتی وفد کو قندہار کی قیادت کی طرف سے مکمل خودمختاری حاصل نہیں‘’افغان وفد کو قندہار کی قیادت کی طرف سے مکمل خودمختاری حاصل نہیں۔ یہ زیادہ تر داخلی طاقت کے توازن کا معاملہ ہے، نہ کہ بین الاقوامی پالیسی کا۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان میں غیر یقینی صورتحال آئندہ برسوں تک برقرار رہ سکتی ہے، اور طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اگر بڑھتے رہے تو علاقائی استحکام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات فی الحال مجبوری کی بنیاد پر چل رہے ہیں، دوستی کی بنیاد پر نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استنبول مذاکرات افغان طالبان انعام الحق پاک افغان تعلقات ٹی ٹی پی مسئلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استنبول مذاکرات افغان طالبان انعام الحق پاک افغان تعلقات ٹی ٹی پی مسئلہ وی نیوز طالبان حکومت کے اندر کہاکہ افغانستان انہوں نے کہاکہ نے کہاکہ افغان کہ افغانستان انعام الحق کے مطابق کہ افغان ٹی ٹی پی کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس