data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251029-08-23
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کے سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل (ریٹائرڈ) احسان الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے سابق سفیر ملاعبدالسلام ضعیف کو امریکا کے حوالے پاکستان نے نہیں بلکہ ان کے اپنے ہم وطنوں نے کیا تھا۔ان کے بقول پاکستانی حکام نے کئی ماہ تک عبدالسلام ضعیف کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسلام آباد چھوڑ دیں تاکہ انہیں بعد میں پیش آنے والی صورتحال سے بچایا جا سکے۔جب اس حوالے سے عبدالسلام ضعیف سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جنرل (ریٹائرڈ) احسان الحق کے بیان کو مسترد کر دیا۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر سیمینار اسلام آباد میں قائم خیبر مارگلہ فاؤنڈیشن نے منعقد کیا تھا، اس سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) احسان الحق نے یاد کیا کہ عبدالسلام ضعیف کو کہا گیا تھا کہ وہ اسلام آباد چھوڑ دیں، انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر وہ نہیں مانے تو انہیں طورخم لے جا کر ملک بدر کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب انہیں ہیلی کاپٹر میں لے جایا جا رہا تھا تو ہمارے لوگوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر آپ رضامندی ظاہر کریں تو ہم آپ کو کسی اور جگہ اتار دیتے ہیں، سرحد پر ملک بدری کے لیے نہیں لے جاتے۔احسان الحق نے کہا کہ آخرکار انہیں طورخم سرحد پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ وہ سرحد پار کر جائیں، پاکستان نے انہیں امریکا کے حوالے نہیں کیا، جب وہ سرحد پار گئے تو افغان حکام نے انہیں گرفتار کر کے امریکیوں کے حوالے کر دیا، جس کے بعد انہیں گوانتاناموبے بھیج دیا گیا، پاکستان نے یہ کام نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ تعلقات منقطع ہونے کے باوجود عبدالسلام ضعیف اسلام آباد میں سرکاری سفارتی رہائش گاہ میں رہائش پذیر رہے، جہاں غیر ملکی میڈیا کے نمائندے بھی اکثر موجود رہتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جب اکتوبر2001ء میں امریکا نے کابل پر بمباری شروع کی تو طالبان رہنما افغانستان چھوڑنے لگے، ان کا ارادہ پاکستان میں ’جلا وطن حکومت‘ بنانے کا تھا، جس کا سربراہ عبدالسلام ضعیف کو بنایا جانا تھا۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا کہ ملا ضعیف سے کہا جائے کہ وہ پاکستان چھوڑ دیں، اْس وقت پاکستان میں 50 لاکھ افغان مقیم تھے لیکن ہم نے کسی ایک افغان کو بھی امریکا کے حوالے نہیں کیا۔جنرل (ر) احسان الحق نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے عبدالسلام ضعیف کو مشورہ دیا کہ وہ کسی پناہ گزین کیمپ یا کسی عام جگہ منتقل ہوجائیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اسے بند کر دیں، یہ پیغام انہیں وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے پہنچایا گیا تھا تاہم سابق آئی ایس آئی سربراہ کے مطابق اْس وقت کے افغان سفیر نے اسلام آباد چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ کئی ماہ تک انہیں کہتے رہے کہ اسلام آباد سے منتقل ہو جائیں، دیگر ممالک بھی احتجاج کرتے تھے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، پاکستان نے افغان حکومت کو تسلیم کرنا ختم کر دیا ہے، پھر بھی وہ اسلام آباد میں بیٹھے رہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عبدالسلام ضعیف کو امریکا کے حوالے احسان الحق نے اسلام ا باد پاکستان نے نے کہا کہ انہوں نے کر دیا

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار