گزشتہ سے پیوستہ روز افغانستان کے ایک ہزار علما نے مشترکہ طور پر ایک قرار دار منظور کی جس میں کہا گیا کہ افغان سرزمین کو دوسرے ملکوں میں دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور بغیر امیر کی اجازت کے کہیں بھی جنگ کرنا ممنوع ہے۔

افغانستان میں ہوئی اِس ڈیولپمنٹ کو پاکستان میں خوش آئند قرار دیا گیا اور افغانستان کی جانب سے امن کی طرف ایک قدم کے طور پر لیا گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس تشویش کا اظہار بھی کیا گیا کہ آیا افغان طالبان حکومت اپنے وعدوں پر عملدرآمد کر پائے گی۔

مزید پڑھیں: پاک افغان تعلقات میں نرمی؟ افغان علما کا بیان ’حوصلہ افزا مگر ناکافی‘

پاکستان نے پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے 11 دسمبر کو صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اگر افغان طالبان حکومت کی قیادت یا افغان معاشرے کے بعض طبقات اس بات کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں کہ اُن کی سرزمین نہ صرف ٹی ٹی پی جیسے گروہوں بلکہ اُن کے اپنے شہریوں کی جانب سے بھی پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تو یہ احساس ایک مثبت پیش رفت ہے، اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ افغان طالبان حکومت نے ماضی میں کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے برادر ممالک کی ثالثی سے ہونے والی بات چیت کے دوران پاکستان نے افغانستان جانب سے تحریری یقین دہانیوں پر زور دیا تھا۔

’ہم اس دستاویز کو دیکھیں گے، اس کا جائزہ لیں گے اور اس کا انتظار کریں گے، لیکن یقیناً اس معاملے پر ہمیں افغان طالبان حکومت کی قیادت سے تحریری یقین دہانی درکار ہوگی۔‘

’2023 میں دیے گئے فتوے پر عملدرآمد نہیں ہوا‘

افغان طالبان کی جانب سے ایسا ہی ایک فتوٰی 2023 میں جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جو بھی افغانستان سے باہر جہاد کے لیے جائے گا وہ جہاد شمار ہو گا نہ مارا جانے والا شہید۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں دہشتگردی میں مزید اِضافہ دیکھنے میں آیا۔

’افغان علما کا فتوٰی تین لحاظ سے اہم ہے‘

اس فتوے میں سب سے اہم چیز اس کی ٹائمنگ ہے۔ اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان سرحدی کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں اور تب سے اب تک دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، جن کی وجہ سے تجارتی تعطّل ہے، اور سرحد کے ساتھ بسنے والی آبادیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے مذاکرات ناکام ہوئے لیکن اِسلامی اور علاقائی ممالک اس کشیدگی میں کمی کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے وقت میں اس طرح کے فتوے کا منظر عام پر آنا بظاہر ایک خوش کن پیشرفت ہے۔

دوسری چیز افغان علما کے اجتماع میں افغانستان کے چیف جسٹس ملا عبدالحکیم حقانی کی شمولیت ہے جو افغان پالیسی کے اہم رُکن سمجھے جاتے ہیں۔

تیسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ایک ایسے ہی طالبان اجتماع نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے نہیں کریں گے اور اس پر عملدرآمد کیا گیا تھا۔

اس فتوے پر تنقیدی نقطہ نظر کیا ہے؟

اس فتوے پر بعض اہم شخصیات کا تنقیدی نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ مُبہم اور غیر واضح فتوٰی ہے۔ ایک ہزار افغان علما کا حالیہ فتوٰی بظاہر دہشتگردی کے خلاف مذہبی اتفاقِ رائے کا تاثر دیتا ہے، لیکن عملی اور سیاسی حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں دہشتگردی کو روکے جانے کے امکانات کم ہیں۔

اس وقت افغانستان میں طالبان حکومت نہ مکمل ریاستی طاقت رکھتی ہے کہ ایسے فتوے کو مسلح گروہوں پر نافذ کر سکے اور نہ ہی ایسے گروہ خصوصاً ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کسی ایسے فتوے کو قبول کرتے ہیں جو اُن کے نظریے یا حکمتِ عملی کے خلاف ہو۔

اگر فتوٰی واضح، دو ٹوک انداز میں خودکش حملوں، ریاست کے خلاف بغاوت اور عام شہریوں پر تشدد کو حرام قرار دیتا ہے اور طالبان اسے مؤثر ریاستی دباؤ اور عملی اقدامات کے ساتھ نافذ کرتے ہیں تو یہ محدود حد تک شدت پسندی کو کم کر سکتا ہے، لیکن اگر متن مبہم ہو یا اسے صرف سیاسی جواز کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ شدت پسند گروہوں کے لیے مزید پروپیگنڈا فراہم کر کے تشدد کے بیانیے کو مضبوط بھی کر سکتا ہے۔

لہٰذا مجموعی طور پر موجودہ حالات میں یہ فتوٰی زیادہ تر ایک علامتی قدم دکھائی دیتا ہے جو دہشتگردی کے رجحان میں کسی بنیادی کمی کی ضمانت نہیں دیتا۔

افغان سیاست کو دیکھنے والے صحافی کیا کہتے ہیں؟

معروف صحافی طاہر خان کہتے ہیں کہ ممکن ہے افغان علما کا اِجلاس پاکستان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے بُلایا گیا ہو، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی، ممکن ہے علما کی رائے معلوم کرنے کے لیے اِجلاس بُلایا گیا ہو لیکن ایسا ہی ایک فتوٰی 2023 میں بھی جاری کیا گیا تھا لیکن اُس کے بعد بھی پاکستان میں دہشتگردی میں اِضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاہ اس فتوے کی ٹائمنگ اہم ہے جیسا کہ دو مہینے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں اور رابطے بند ہیں۔

ایک اور صحافی حسن خان کے مطابق پاکستان نے اس صورتحال کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن پاکستان کو تحریری ضمانتیں درکار ہیں۔

افغانستان کے حوالے سے معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہارون رشید نے وی نیوز کو اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان میں مذہبی طبقے کا اثر پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اور اس سطح کے اجلاس کو اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم ہارون رشید سمجھتے ہیں کہ یہ اجلاس دراصل اندرونی مشاورت تھا، جس کی قراردادیں منظرِ عام پر نہیں آنا تھیں لیکن خبر لیک ہونے کے بعد اسے سیاسی رنگ مل گیا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف

ان کا کہنا ہے کہ علما کی حمایت طالبان حکومت کے لیے دباؤ ضرور پیدا کرتی ہے، مگر حتمی فیصلے طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ہی کرنا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان دونوں اس وقت معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اور سرحدی کشیدگی سے نہ صرف تجارت بلکہ خطے کا مجموعی استحکام متاثر ہو رہا ہے۔ ’اسٹیٹس کو زیادہ دیر چل نہیں سکتا، تجارت، روزگار اور علاقائی رابطے پر اس کے اثرات ہیں، اس لیے فریقین پر دباؤ تھا کہ کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افغان سرزمین افغان طالبان افغانستان پاکستان دہشتگردی علما کا فتویٰ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان سرزمین افغان طالبان افغانستان پاکستان دہشتگردی علما کا فتوی وی نیوز افغان طالبان حکومت اور افغانستان افغان علما کا افغانستان کے میں دہشتگردی پاکستان میں دہشتگردی کے گیا تھا کیا گیا کے بعد لیکن ا کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی