پنجاب بھر میں افغان باشندوں کی نشاندہی کیلیے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:۔ پنجاب حکومت نے افغان سمیت کسی بھی غیر ملکی کو پراپرٹی کرائے پر دینے والوں پر ایف آئی آر کا اندراج یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان پر مسلسل چھٹا اجلاس منعقد ہوا، غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت کی گئی اور افغان سمیت کسی بھی غیر ملکی کو گھر، دکان، فیکٹری، ہوٹل اورپٹرول پمپ وغیرہ کرائے پر دینے کی روزانہ رپورٹ طلب کر لی گئی۔
اجلاس میں پٹواری، نمبردار اور ایس ایچ او کو غیر ملکیوں کو دی گئی پراپرٹی کی رپورٹ کرنے کے ذمہ دار قرار دیا گیا، تمام اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بارے میں فیلڈ سروے کرانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں وزٹ ویزہ یا غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوکر ملازمت کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان میں غیر قانونی طور پر ملازمت کرنے والے افغانوں کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی شخص کسی افغان یا غیر ملکی کو پراپرٹی دے گا تو بھرپور ایکشن ہوگا، بے نامی اور مشکوک پراپرٹیز کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کر لی گئی۔
بریفنگ دی گئی کہ صوبے بھر کے تمام اضلاع میں افغان شہریوں کے لئے 45 ہولڈنگ سینٹر قائم کیے گئے ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو قیام طعام اور طورخم بارڈر تک ٹرانسپورٹ دی جارہی ہے، افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے چہرے سے شناخت کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف مہم جاری ہے، عوام نے سی سی ڈی سے رابطے کر لیے، انتہا پسند جماعت کے لیے پرچار کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی قانون کی زد میں آگئے جبکہ ضروری کارروائی کے بعد پنجاب بھر میں مدارس کو ڈی سیل کرنا شروع کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ ذمہ داروں کو پکڑا جائے کوئی بے گناہ زد میں نہ آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔