امر خان کی دیوالی پر بولڈ ڈریسنگ، اداکارہ تنقید کی زد میں آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ امر خان کو دیوالی کے موقع پر بولڈ ڈریسنگ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی شوبز انڈسٹری کے فنکاروں نے ساتھی ہندو فنکاروں کیساتھ دیوالی کا تہوار منایا جس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔
یہ تصاویر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں جس میں فنکاروں کو ماتھے پر بندی لگائے دیوالی کا تہوار مناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ فنکاروں کی اپنے ساتھی ہندو فنکاروں کے ساتھ اظہار محبت اور یکجہتی کا انداز سمجھا جاتا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Amar Khan (@amarkhanlove)
تاہم اس مرتبہ بھی کئی اداکاراؤں کو ان کی بولڈ ڈریسنگ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امر خان بھی اس تنقید کی زد میں آگئی ہیں۔ انہوں نے گہرے سُرخ رنگ کی ساڑھی زیب تن کی تھی تاہم اس کا بلاؤز انتہائی نامناسب تھا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کا تہوار منانا غلط ہے تاہم اگر ساتھیوں سے اظہار محبت کیلئے منا بھی رہی ہیں تو غیر اخلاقی اور بولڈ لباس پہننے سے گریز کرنا چاہیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ وہیں کیوں نہیں چلی جاتیں‘؟ جبکہ دیگر نے اداکارہ کیلئے ہدایت کی دعا کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ