آخر یہ چاہتی کیا ہیں؟ حرا مانی کی ساڑھی میں بولڈ تصاویر پر سوشل میڈیا صارفین برہم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ابھرتی ہوئی اداکارہ حرا مانی ایک بار پھر اپنے بولڈ انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا کی زد میں آ گئیں۔
اداکارہ حرا مانی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تصاویر اور روز مرہ کی سرگرمیاں شیئر کرتی رہتی ہیں جس کے باعث ان کے فالوروز کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔
حال ہی میں انھوں نے ساڑھی میں اپنا فوٹو شاٹ شیئر کیا جس میں وہ کافی پُرکشش نظر آرہی ہیں تاہم صارفین نے اداکارہ کے لباس کو نامناسب اور حد سے زیادہ بولڈ قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ بیٹے بڑے ہو رہے ہیں اور ان کی ماں ایسی تصاویر بنوا رہی ہیں۔ ایک اور کمنٹ آیا یہ سب اسی نظام کی ڈیمانڈ ہے جس میں یہ لوگ کام کرتے ہیں۔
ایک صارف نے طعنہ دیا کہ جسم کو بھی ڈھانپ لیا کریں۔ اس طرف بھی توجہ دیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی حرا مانی نے ساڑھی میں بارش کے بھیگتے ہوئے فوٹو شاٹ کروایا تھا جس پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم حرا مانی اس تنقید کا کبھی جواب نہیں دیتیں جس سے لگتا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور پسند سے جو کرنا چاہتی وہ کرتی رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔