Express News:
2026-06-03@07:36:38 GMT

خاندانی نظام کے زوال میں سوشل میڈیا کا کردار

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

 اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی راہ نمائی کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور عقائد پر زور دیا ہے وہیں معاشرتی نظام کو بھی بڑی اہمیت دی ہے، خصوصاً خاندانی نظام کو انسانیت کی فلاح کی بنیاد قرار دیا ہے۔ خاندان ایک ایسی بنیادی اکائی ہے جس پر معاشرہ قائم ہوتا ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں کیا، بل کہ اسے ایک خاندانی، معاشرتی اور باہمی تعلقات سے بھرپور نظام عطا فرمایا ہے۔ انسانی زندگی کا آغاز بھی ماں باپ سے ہوتا ہے اور اس کا دائرہ بہن بھائیوں، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر رشتے داروں تک پھیلتا ہے۔ یہ تعلقات انسانی زندگی کے لیے ایک ایسی سایہ دار شاخ ہیں جو ہر موسم میں اس کا سہارا بنتی ہے۔

جب انسان اپنے اصل رشتوں کو بُھول کر سوشل میڈیا اور دنیاوی رنگینی کے عارضی تعلقات میں الجھ جائے، تو وہ محبت، ہم دردی، سچی دعاؤں اور حقیقی خیرخواہی سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے دین اسلام نے بار بار رشتے داروں سے جڑے رہنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور صلۂ رحمی کو تقریباً فرض کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔

قرآنِ کریم کی سورہ النساء میں خاندانی رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس تعلق کو بنیادِ ایمان قرار دیا ہے۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ سے تقویٰ کے ساتھ رشتے داروں سے جڑنے کا بھی حکم دیا گیا، یعنی رشتے داروں سے تعلق توڑنا صرف سماجی جرم نہیں، شرعی جرم بھی ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ احسان و عدل میں رشتہ داروں کو ترجیح دو۔ مفہوم:

’’اﷲ تعالیٰ عدل، احسان اور قرابت داروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (سورہ النحل)

یہ وہ مشہور آیت ہے جو جمعے کے خطبے میں اکثر پڑھی جاتی ہے، اور اس میں عدل و احسان کے بعد قریبی رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کا خصوصی ذکر ہے۔

ایک اور جگہ رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے، مفہوم:

’’جو لوگ اﷲ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑتے ہیں، اور ان رشتوں کو کاٹتے ہیں جن کے جوڑنے کا اﷲ نے حکم دیا ہے، وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ اﷲ کی لعنت کے مستحق ہیں۔‘‘ (سورہ الرعد)

 نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات مبارکہ ہیں کہ صلۂ رحمی رزق میں برکت اور عمر میں اضافہ کا ذریعہ ہے۔

 ارشاد رسول کریم ﷺ کا مفہوم:

’’جو شخص چاہتا ہو کہ اس کا رزق بڑھایا جائے اور عمر میں برکت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘ (بخاری شریف)

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، مفہوم:

’’رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنّت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ (صحیح مسلم)

یعنی رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنت سے محروم رہے گا۔ آپ صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ رشتہ دار پر خرچ کرنا دہرا اجر رکھتا ہے، ایک صدقہ اور دوسرا صلۂ رحمی کا۔ (ترمذی شریف)

دین اسلام نے خاندانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بہت سی تعلیمات دی ہیں، جن کی بنیاد محبت، ہم دردی، انصاف، صبر، اور حقوق و فرائض کی ادائی پر رکھی گئی ہے۔

اسلام میں نکاح کو عبادت اور سنت قرار دیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے:

’’اور اپنے میں سے ان لوگوں کا نکاح کرو جو بے نکاح ہوں اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔‘‘ (سورہ النور)

نکاح صرف جسمانی ضرورت نہیں بل کہ ایک مقدس عہد ہے جو خاندان کی بنیاد ڈالتا ہے۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور اطاعت کو فرض قرار دیا قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے، مفہوم:

’’اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘ (بنی اسرائیل)

اسی طرح دین اسلام نے والدین کو اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا، مفہوم:

’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ (التحریم)

آج کے دور میں سوشل میڈیا پر ہزاروں فرینڈز، فالوورز، لائکس، ری ایکشنز اور تبصروں کی بھرمار ہے، مگر یہ تعلقات عارضی، سطحی اور غیر مخلص ہوتے ہیں۔ دکھ سکھ میں نہ کوئی کام آتا ہے، نہ دل سے دعائیں دیتا ہے۔ یہ وقت اور توجہ کی چوری کرتے ہیں، خاندانی وقت کو برباد کرتے ہیں۔ کئی طلاقیں، خاندانی جھگڑے، نافرمانیاں اور رنجشیں صرف سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کا نتیجہ ہیں۔

جب کہ حقیقی خاندان دعاؤں کا خزانہ ہے، غم گسار اور مددگار ہوتا ہے۔ اولاد کی تربیت، بڑوں کا سایہ، اور چھوٹوں کی رونق ہے۔ صبر، برداشت، رواداری اور قربانی سکھاتا ہے۔ خاندانی تعلقات کی عظمت و برکات بے شمار ہیں کہ خاندان انسان کے لیے محبت، سکون اور رحمت کا گہوارہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں نکاح (جیسا کہ اوپر بھی عرض کیا گیا ہے) کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا، مفہوم: ’’اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔‘‘ (الروم)

خاندانی نظام نسل انسانی کی بقاء اور اس کی اخلاقی، دینی اور معاشرتی تربیت کا ذریعہ ہے۔ یہی نظام بچوں کو معاشرتی اقدار سکھاتا ہے، جب خاندان مضبوط ہو تو پورا معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ ہر فرد کو اپنے حقوق و فرائض کا علم ہوتا ہے اور معاشرہ عدل و امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلامی خاندانی نظام میں بزرگ، بیمار، اور محتاج افراد کو اکیلا نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ خاندان کا ہر فرد دوسرے کی مدد کرتا ہے، جس سے غربت اور فاقہ کشی میں کمی آتی ہے۔ بزرگوں کو معاشرے کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا حق نہیں پہچانتا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ ( ترمذی شریف)

دین اسلام سے ہمیں بھرپور عملی ہدایات ملتی ہیں کہ ہم روزانہ کچھ وقت خاندانی ملاقات، گفت گُو یا حال احوال کے لیے مختص کریں، سوشل میڈیا کو محدود کریں، اصل زندگی میں لوگوں سے رابطہ رکھیں، ماں باپ کی خدمت، بہن بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک، اور قریبی رشتے داروں کو تحفے دینا معمول بنائیں، گھریلو دعوتیں، عیادت، اور خوشی و غم میں شرکت خاندانی رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں اور اختلافات کو انا کی بہ جائے دین کی روشنی میں سلجھائیں۔

اﷲ تعالیٰ نے خاندان کو ہمارے لیے پناہ گاہ، مددگار اور محبت کا سرچشمہ بنایا ہے۔ دین اسلام نے خاندان اور رشتے داروں کے حقوق کو فرض قرار دیا ہے اور ان سے غفلت کو ہلاکت کا باعث بتایا ہے۔ سوشل میڈیا اور دنیا کی مصنوعی چکا چوند میں کھو کر حقیقی رشتوں کو نہ بھلائیں، بل کہ انھیں وقت، توجہ اور دل سے جُڑا رکھیں، کیوں کہ یہی تعلقات دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنیں گے۔

اے اﷲ! ہمارے دلوں میں صلۂ رحمی، خاندانی محبّت اور عاجزی پیدا فرما، ہمیں والدین، بہن بھائی، رشتہ داروں کے ساتھ سچائی، وفا اور خیر خواہی عطا فرما۔ ہمیں دکھاوے اور وقتی تعلقات سے بچا، اور ہمیں ہمیشہ حق، تعلق اور دین کے راستے پر قائم رکھ۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی

واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔

پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت