Express News:
2026-07-24@02:47:03 GMT

ایٹم بم کی دہشت

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

  ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ ایٹم بم کی دہشت ہی دنیا میں بہت سی خونریزی کو روکے ہوئے ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال برصغیر پاک و ہند میں ہمارے سامنے ہے۔ بھارت اور ہمارے درمیان باقاعدہ آخری بڑی جنگ دسمبر 1971 میں لڑی گئی اس وقت دونوں ممالک میں سے کوئی بھی ایٹمی توانائی کا حامل نہیں تھا یا یہ کہا جائے کہ تسلیم شدہ نیوکلیئر ریاست نہیں تھا۔ گرچہ بھارت نے اس پر کام پہلے سے شروع کررکھا تھا مگر ابھی اس نے اس کے ٹیسٹ نہیں کیے تھے۔

1974 میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے سب سے پہلے بھارت کو اس اعزاز سے نوازا۔ ہمارا ملک اس وقت دولخت ہوجانے کے بعد بہت ہی مشکل صورتحال سے گزر رہا تھا اورہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم بھی کبھی اس اعزاز سے سرفراز ہو پائیں گے مگر اس وقت کے ہمارے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے باوجود مشکل معاشی حالات کے یہ تہیہ کر ڈالا کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے ہم بھی یہ توانائی حاصل کر کے چھوڑیں گے۔

اُنھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ اُن کے اس برملا اعلان کو عالمی سطح پر اس وقت کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور اِسے ایک دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کردیا گیا۔ مگر کسے معلوم تھا کہ اُن کی یہ بڑ ایک دن حقیقت کا روپ ڈھال کر ساری دنیا کو اچنبھے میں ڈال دے گی۔1974 کا یہ اعلان 1998 میں شرمندہ تعبیر ہوگیا اور دنیا کا ایک پہلا اسلامی ملک ساتویں ایٹمی قوت بن کر ابھر کر سامنے آگیا۔

اب اس سے دنیا کی کوئی بھی طاقت یہ اعزاز چھین نہیں سکتی تھی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی ہم سے باقاعدہ کسی محاذ آرائی اور کھلی جنگ کرنے سے خوفزدہ ہے۔ وہ اکّادکاّ سرحدی خلاف ورزیاں تو ضرور کرتا رہتا ہے لیکن 1965 کی طرح لشکر اندازی نہیںکرتا ہے۔ اُسے یہ خوف اور ڈر لاحق رہتا ہے کہ وطن کے لیے جان دے دینے سے نہ گھبرانے والی اس قوم سے جو ایٹمی قوت کا درجہ بھی رکھتی ہے اب کوئی بڑی جنگ لڑی نہیں جاسکتی ہے۔

اسے اس جنگ کے خوفناک نتائج کا پتا ہے۔ آج اگر ہمارے پاس یہ ایٹمی صلاحیت نہ ہوتی تو ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے کہ ہم سے سات گنا بڑا ملک ہمارا کیا حشر کرچکا ہوتا۔ ہمیں اپنے اُن تمام افراد کا شکر گزار ہونا چاہیے جنھوں نے مشکل ترین مالی حالات میں بھی اس پراپنا کام جاری رکھا اور ہمیں بالآخر ایک نیوکلیئر قوت بنا کے چھوڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر قدیر خان اور میاں نوازشریف تینوں کو اس مقصد کو حاصل کرنے میں بہت سی قربانیاں بھی دینی پڑیں مگر اُنھوں نے ہمت نہ ہاری اور ہماری نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل سے ہمکنار کردیا۔

بھٹو صاحب کو پھانسی کے پھندے پر لٹکنا پڑا ، ڈاکٹر قدیر خان کو زندگی کے آخری کئی سال نظر بندی میں گزارنے پڑے اور ٹی وی پر آکر اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی بھی مانگنی پڑی اور میاں نوازشریف کو ایٹمی ٹیسٹ کرنے کی سزا کے طور پر اقتدار سے نہ صرف معزول ہونا پڑا بلکہ کئی جھوٹے کیسوں میں لمبی لمبی سزائیں بھی بھگتنی پڑیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہم نے اِن تینوں شخصیات کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور تینوں کو اس مادر وطن کے لیے ایسے قرض اتارنے پڑے جو اُن پر واجب بھی نہ تھے۔ دیکھا جائے تو جنرل ضیاء اگر چاہتے تو اپنے گیارہ برس کے دور میں یہ کام کرسکتے تھے ۔ اُنہیں اس وقت تمام عالمی اہم قوتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔

میاں نوازشریف بھی اگر 1998 میں اپنا اقتدار بچانے کی فکر میں بل کلنٹن کی مالی پیشکش قبول کر کے یہ ایٹمی دھماکے مؤخر کردیتے تو کیا ہم آج اتنے محفوظ ہوتے۔ میاں نوازشریف کو تو ویسے بھی کسی نہ کسی بہانے سے سزا دیدی جاتی مگر ہم پھر کبھی بھی تسلیم شدہ ایٹمی قوت کا درجہ حاصل نہ کرپاتے۔ ہم پر نہ صرف ایران کی طرح اقتصادی قدغنیں لگا دی جاتیں اور ہمارا نیوکلیئر پروجیکٹ بھی منسوخ کروا دیا جاتا۔ پانچ ارب ڈالرز کی لالچ میں ہم اپنے مستقبل داؤ پرلگاچکے ہوتے۔ کچھ لوگوں کی نظروں میں میاں نوازشریف کا یہ فیصلہ درست سمجھا نہیں گیا اوروہ آج بھی اپنی اس سوچ کی وجہ سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں کہ اسی فیصلے کی وجہ سے ہم بھارت کی لشکر کشی سے اب تک بچے ہوئے ہیں۔

بھارت کسی نہ کسی بہانے ہر دوچار سال بعد اپنے یہاں دہشت گردی کروا کے حالات کو تشنہ اور خراب کردیتا کہ اور علاقے کا سارا امن برباد کر کے رکھ دیتا ہے، مگر پھر وہ یہ سوچ کر دو قدم پیچھے بھی ہٹ جاتا ہے کہ وہ جس قوم سے نبردآزما ہے وہ ایک جنگجو قوم ہے اور وہ موت سے کبھی نہیں ڈرتی۔ وہ شہادت کے جذبے سے سرشار ہے اور اس کے پاس بھی ایک ایسا بم موجود ہے جو سارے بھارت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔ یہ خوف اسے ہمیشہ جنگ لڑنے سے روک دیتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار یہ ہمارا ایٹم بم ہی ہے جسے استعمال کیے بغیر ہمارا دشمن ہم سے مغلوب ہوجاتا ہے۔

1971 سے لے کر آج 2025 تک 54 برس گزرگئے، بھارت نے ہم پر کوئی بڑی جنگ مسلط نہیں کی حالانکہ وہ ہم سے سات گنا بڑا ملک ہے اور معاشی و اقتصادی طور پربھی ایک بہت ہی مضبوط ملک ہے مگر اسی ایٹم بم نے اسے اس کام سے خوف زدہ کررکھا ہے۔ دنیا تو ہمارے ایٹم بم سے اس لیے بھی خوف زدہ ہے کہ یہ ایک اسلامی ایٹم بم ہے ۔ امریکا اور اس کے حواری یہ ہرگز برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ کوئی اسلامی ملک ایٹمی توانائی کا حامل ہو۔ پاکستان نے کسی نہ کسی طرح یہ حیثیت حاصل کر لی لیکن اب کسی اور اسلامی ملک کو اس کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے کہ وہ بھی اس قوت اور صلاحیت کاحامل ہوجائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار