لاہور: پولیس اہلکاروں نے تاجر کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
لاہور میں محافظ ہی ڈکیت نکلے، پولیس اہلکاروں نے سندھ کے تاجر کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور مقابلے میں مارنے کی دھمکی دے کر ایک لاکھ روپے بھتہ لے لیا۔
29 اپریل کی رات ایبٹ روڈ پر ناکہ لگائے قلعہ گجر سنگھ پولیس کی محافظ فورس کے 5 باوردی اہلکاروں نے سکھر سے آئے تاجر مشتاق احمد کو گن پوائنٹ پر روکا اور اغواء کر کے ویرانے میں لے گئے۔
پولیس کے مطابق تاجر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دیں۔
بوٹ بیسن، شہریوں پر تشدد، مرکزی ملزم شاہ زین مری فرار، 7 محافظ گرفتارکراچی کراچی کے علاقے بوٹ بیسن پر 9 روز قبل شاہ زین.
سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ 2 باوردی اہلکار تاجر مشتاق احمد کو اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے جا رہے ہیں، نیلا گنبد انارکلی پہنچ کر اہلکار بینک کے باہر کھڑے ہوگئے اور تاجر نے اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی، رقم لینے کے بعد تاجر کو سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
تاجر کی درخواست پر تھانہ پرانی انارکلی پولیس نے محافظ فورس کے 5 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق پانچوں ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے اور گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تاجر کو
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور