پہلگام واقعہ کے الزام میں گرفتار بے گناہ کشمیریوں کی لاشیں برآمد ہونے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو بنیاد بناکر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر کے متعدد بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار جبکہ گھروں کو تباہ کردیا تھا۔
بھارت فوج نے مقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیے گئے نوجوانوں پر مسلح افراد کی سہولت کاری کا بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ایک اور کشمیری نوجوان کی لاش دریا سے برآمد ہوئی ہے، جس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک حراست میں لیے گئے تین نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی انکشاف کیا کہ پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارتی فوج نے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کا نیا باب کھول دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلگام واقعے کے بعد نہتے کشمیری مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دے کر ان کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، کُلگام میں ایک اور نہتے کشمیری کی لاش دریا سے برآمد ہوئی ہے۔
محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا کہ پہلگام واقعے کے بعد کشمیری مسلمانوں کو گرفتار، شہید اور گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، باندی پورہ میں بھی بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنا کر ان کو بے دردی سے شہید کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان