بھارتی ہندوؤں نے مودی سرکار کے فالس فلیگ آپریشن کا بھانڈا پھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
نئی دہلی – پہلگام میں ہونے والے مشکوک حملے کو لے کر بھارت میں خود ہندو عوام اور ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی شہریوں نے اسے مودی سرکار کا منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے جس کا مقصد ملک کے اندر بڑھتے ہوئے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
بھارتی ہندو خاتون میناکشی بالی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "یہ حملہ مودی حکومت کی ایک منظم سازش ہے، جس کے پیچھے بہار انتخابات کے سیاسی عزائم چھپے ہیں۔" انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتی فوج واقعی اتنی طاقتور ہے تو دہشت گرد اس قدر گہرائی میں کارروائی کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ سیکیورٹی کی واضح ناکامی ہے۔
میناکشی کا کہنا تھا کہ "ہندوؤں کو مار کر مسلمانوں پر الزام ڈالنا ایک پرانا سیاسی ہتھکنڈہ ہے۔ مودی حکومت مسلمانوں کو دیوار سے لگا کر ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کر رہی ہے، اور وقف قوانین کو بھی مسلمانوں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔"
دفاعی ماہرین نے بھی اس واقعے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مہم جاری ہے، اور اس کے پیچھے مکمل ریاستی سرپرستی شامل ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر بھارتی عوام نے خاموشی اختیار کی تو یہ ظلم دلتوں اور دیگر اقلیتوں تک پھیل جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔