آ واز
ایم سرور صدیقی
بھارتی حکومت نے ہمیشہ جھوٹ بول کر دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔اب عالمی برادی جان گئی ہے کہ پہلگام میں دہشت گردی کے واقعات ڈرامہ تھے جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا لیکن اس کوشش میں خود منی بدنام ہوگئی کیونکہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ”را” کا کردار بے نقاب ہو چکاہے ۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ ایسا ہی کچھ پہلگام واقعے پر ہوا جب بھارت نے حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان پر الزام عائد کرنا شروع کردیئے تھے۔ مودی سرکار کے اس جھوٹے پروپیگنڈے پر پاکستانی میڈیا نے دنیا کے سامنے ناقابل تردید ثبوت کے ساتھ حقائق پیش کیے جس سے بھارت کا زہریلا پروپیگنڈا زائل ہوگیا۔ پاکستانی میڈیا کے مضبوط دلائل سے بھارتی عوام کی آنکھیں بھی کھل گئیں اور دفاعی ماہرین سمیت عام شہریوں نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا۔ جھوٹ پر کھڑی مودی حکومت اپنے بیانیے کو یوں تار تار ہوتے دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآئی۔ یہ دستاویزسوشل میڈیا ایپلیکیشن ”ٹیلی گرام” کے ذریعے لیک ہوئی ہے، جو پہلگام حملے میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کا بھی واضح ثبوت ہے، جبکہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی کانگریس کے سابق وزیر سیف الدین سوز نے پاکستان کا پانی روکنے کے بھارتی دعوؤں کا پول کھول دیا۔ سیف الدین سوز نے کہا کہ پاکستان کے لئے پانی لائف لائن ہے کیونکہ یہ زراعت اور پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔حقیقتاً اگر بھارت نے پاکستان کا پانی موڑنے کی کوشش کی گئی تو پنجاب اور جموں و کشمیر مکمل طور پر ڈوب جائیں گے ۔دوسرا اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سندھ طاس آبی معاہدے کی خلاف ورزی بھارت اور پاکستان کے درمیان کھلی جنگ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صورتحال کو بین الاقوامی برادری باریک بینی سے دیکھ رہی ہے، پاکستان کا مؤقف واضح ہوچکا ہے کہ وہ پہلگام حملے میں ملوث نہیں ہے جو کہ مودی سرکار کی سازش ہے۔دستاویزمیں دی گئی ہدایات اور منصوبے پر عملدر آمد میں تضاد فالس فلیگ کا باعث بنا جس میں ہدایت دی گئی تھی کہ پاکستان مخالف بیانیہ میڈیا پر چھتیس گھنٹے کے بعد بنانا ہے۔ دستاویز کے مطابق آئی ایس آئی پر یہ الزام چھتیس گھنٹے کے بعد ڈالنا ہے جب کہ میڈیا نے فالس فلیگ آپریشن کا فوری الزام پاکستان پر عائد کرکے منصوبہ خراب کردیا۔
دستاویز اور ان تضادات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی”را” کو بھی کوئی ہدایات دیتا ہے۔ دستاویز کا یوں سوشل میڈیا پر آنا ”را” کے اندر ہندوتوا مخالف سوچ کا بھی شاخسانہ لگتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی حکومت دستاویز کے سوشل میڈیا پر لیک ہونے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی دستاویز میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دستاویزبعنوان OpsPsyاور بیانیہ کنٹرول میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ”واقعے کا بیانیہ یوں مرتب ہو کہ یہ ریاست سمیت غیر مسلموں پر حملہ بن کر اُبھرے”۔ دستاویز کے مطابق اس واقعے کو ابھارنے کے لیے یہ وقت بہت اہم ہوگا۔ میڈیا کے اداروں کوچھتیس سے اڑتالیس گھنٹے پہلے واقعے کی جگہ پر متحرک کیا جائے گا۔ضلع اننت ناگ میں ایک کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ لیک ہونے والی”را” دستاویز کے مطابق سیاحوں کی آمد و رفت کی نگرانی کے بہانے خاص جگہوں پر اپنے فیلڈ آپریٹرز تعینات کیے جائیں گے۔ حملے کے دو سے چار گھنٹے کے اندر اے آئی سسٹم کے تحت گواہوں کے بیانات لیے جائیں گے۔ دھندلی ویڈیوز کی مدد سے واقعے کی تصویریں دوبارہ بنائی جائیں گی۔ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی ہیش ٹیگ کے بجائے دوسو سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے غلط معلومات کی مہم چلائی جائے گی اور آئی ایس آئی پر الزام ڈالنے کے لیے ٹرینڈز کو بغیر کنٹرول کے پھیلایا جائے گا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را کی دستاویز کے مطابق بحث کا رخ کشمیر سے ہٹا کر عالمی اسلامی سازشوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ شمالی کمان حملے کی جگہ کے قریب سے ملنے والی خط و کتابت کو آئی ایس آئی سے منسلک کرے گی اور فرانزک انداز میں آئی ایس آئی کی مبینہ دستاویزات لیک کرے گی۔ ان دستاویز کے مطابق آپریشن کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سفارتی موجودگی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ عالمی برادری سے انسداد دہشت گردی پر یکجہتی کی اپیل بھی کی جائے گی ۔دستاویزات میں متبادل منصوبے کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ شوپیاں میں متبادل نظام فعال کر دیا گیا ہے، لیک ہونے کی صورت میں متبادل پلان کے طور پر کام ہو گا۔ ایل او سی پر پاکستان کی تیز پیش قدمی بھارت کے کنٹرول کو چیلنج کر سکتی ہے۔1.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: دستاویز کے مطابق فالس فلیگ آپریشن بھارتی حکومت آئی ایس آئی مودی سرکار سوشل میڈیا پاکستان کا کہ پہلگام لیک ہونے گھنٹے کے میڈیا پر جائے گی جائے گا گیا ہے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔